مخصوص نشستیں کیس لگتا ہے پی ٹی آئی میں کوآرڈینیشن کا فقدان تھا جسٹس محمد علی مظہر

 نظر ثانی کیس میں دیکھنا ہے الیکشن کمیشن نے آئین سے روگردانی کی یا سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے؟جسٹس امین الدین خان
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے حامدخان ایڈووکیٹ کی جانب سے مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کے التواء کی درخواست مستردکردی

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی  بینچ نے حامدخان ایڈووکیٹ کی جانب سے مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کے التواکی درخواست مستردکردی ‘ بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہاہے  آپ سینئر ہیں، لیکن سارے دلائل مکمل ہو چکے، اور آپ تیسرے وکیل ہیں۔ حامد خان نے کہا کہ اگر عدالت التوا کی درخواست مسترد کرتی ہے تو آگاہ کر دیں، جس پر بینچ نے التوا کی درخواست باضابطہ مسترد کر دی۔جبکہ سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے  لگتا ہے پی ٹی آئی میںرابطے کا فقدان تھا۔بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس میں دیکھنا ہے الیکشن کمیشن نے آئین سے روگردانی کی یا سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہم نے آپ کوآؤٹ آف وے جاکرریلیف دیاجس پر آپ کے رہنماء نے بھی کہاتھاکہ یہ ہمیں کیسے مل گیاآپ بتائیں آپ کویہ ریلیف مل سکتاتھااس پر حامدخان نے کہاکہ سپریم کورٹ کی تاریخ دیکھی جائے تونہیں مل سکتا تھا۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ پارٹی نشان نہ ملنے سے سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کی لیکن سنی اتحاد کونسل پارلیمنٹ میں موجود ہی نہیں تھی۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں سندھ ہائیکورٹ بار کیس کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ فیصلہ مثال ہے کہ عدالت آئین بحالی کے لیے مداخلت کرتی رہی ہے۔ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے بعد کئی اقدامات کیے گئے۔ سپریم کورٹ نے اس ایمرجنسی کو غیر آئینی کہا۔ اس ایمرجنسی کے بعد کیے گئے تمام اقدامات بھی کالعدم کیے گئے۔سلمان اکرم راجا نے مشرف دور کی ایمرجنسی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے قرار دیا کہ ایمرجنسی کے بعد لگائے گئے ججز کی حیثیت نہیں تھی۔ عدالت نے ججز کو ہٹائے جانا بھی غلط قرار دے کر بحال کیا۔ الیکشن ایکٹ سیکشن 66 کے مطابق کسی بھی پارٹی کا امیدوار بننے کے لیے 2 اصول ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ کو پارٹی ٹکٹ فائل کرنا چاہیے یا نہیں۔ کیا اس کا کوئی ثبوت ہو گا؟۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی ثبوت ججمنٹ میں ڈسکس ہوا ہے؟۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کتنے امیدواروں نے مینشن کیا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے؟، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے جو ریکارڈ پیش کیا اس کے مطابق 39 نے مینشن کیا۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کہتے ہیں 39 آپ کی اس 80 کی لسٹ سے لیا گیا ہے۔ یہ ریکارڈ یا ثبوت عدالت کے سامنے پہلے نہیں تھے‘ حامدخان اپنے دلائل آج جمعہ کوبھی جاری رکھیں گے۔