ہم چاہ رہے ہیں اس کیس کو جلد از جلد ختم کریں، 7 اکتوبر سے 26ویں آئینی ترمیم کی سماعت شروع کر رہے ہیں:جسٹس امین الدین
اسلام آباد(آئی ا ین پی)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس درخواستوں پر سماعت آج صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہر سال یہ مسئلہ اٹھتا ہے اور ہر سال کوئی نہ کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے۔دوران سماعت، مختلف کمپنیوں کی جانب سے وکیل شہزاد عطا الہی کے دلائل مکمل ہوگئے۔سپر ٹیکس درخواستوں پر سماعت شروع ہوئی تو مختلف کمپنیوں کے وکیل شہزاد عطا الہی نے کہا کہ ٹیکس وہ ہوتا ہے جو روٹین میں لاگو ہو۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ فنانس بل کا اسٹرکچر کیا ہوتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ فنانس بل آئندہ آنے والے سال کے لیے ہوتا ہے، گزرے سال کے لیے نہیں ہوتا۔کمپنیز کے وکیل شہزاد عطا الہی نے دلائل میں کہا کہ ہم سارا ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ رات سوئیں اور صبح نیا ٹیکس لاگو نہ ہو، ایکٹ بنانے کا کیا مقصد تھا، یہ ایک مسئلہ ہے جسے حل کرنا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہر سال یہ مسئلہ اٹھتا ہے اور ہر سال کوئی نا کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے ہم چاہ رہے ہیں کہ اس کیس کو جلد از جلد ختم کریں، 7 اکتوبر سے چھبیسویں آئینی ترمیم کی سماعت شروع کر رہے ہیں۔