سپر ٹیکس کیس: بینچ 191 اے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا: جسٹس محمد علی مظہر

آئینی بینچ نے ٹیکس سے متعلق تشریح کے کیس سننے ہیں:ریمارکس‘ ٹیکس پیئرز کے وکیل کے دلائل مکمل
اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، ٹیکس پیئرز کے وکیل عدنان حیدر نے دلائل مکمل کئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے  31 دسمبر 2021 کے اختتامی سال پر 2022 ٹیکس کا قانون لاگو ہوگا، آپ کا منافع فنانشل اسٹیٹمنٹ سے نکالا جائے گا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ خود اپنے موقف کو تبدیل کر رہے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ واضح نہیں کر پا رہے کہ کیسے ٹیکس لگ رہا ہے، وکیل عدنان حیدر نے استدلال کیا کہ ایف بی آر استثنی کی بات آئے تو نہیں دیتا، ٹیکس لینے کی بات آئے تو فورا لے لیتا ہے، ہمارا موقف ہے کہ اگر چارج لگانا ہو تو اسی سال کا لگایا جائے اور استثنی بھی دیا جائے، سب کیسز کا فیصلہ اس بینچ نے ہی کرنا ہے تو ٹربیونل کے کیسز بھی یہ سن لے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ آئینی بینچ نے ٹیکس سے متعلق تشریح کے کیسز سننے ہیں، یہ بینچ 191 اے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔عدالت نے کیس کی سماعت  آج تک ملتوی کردی۔