عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت آگے بڑھیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز، دوسرے مرحلے میں منجمد اثاثوں کی واپسی اور آخری مرحلے میں جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں نئی مجوزہ راہداری کو مسترد کر دیا ہے۔اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایران کی اولین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع ہے۔ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے وعدے پر عمل کیا گیا، لیکن مدت ختم ہونے سے قبل امریکا نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر دوبارہ حملے کیے۔
آسٹریا کے ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ایرانی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مذاکرات کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے جب حملوں کے ذریعے ایران کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اب تک مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے منجمد اثاثے جاری نہیں کر سکا۔