ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے جنگ کا خاتمہ ترجیح ہونی چاہیے، تاہم ایران امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اس سے تنازع اس طرح کبھی ختم نہیں ہوگا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے اپنے دفاع کی تیاری کبھی ترک نہیں کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کسی معاہدے سے پیچھے ہٹا تو ایران ہر قسم کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا پر کسی بھی قسم کا اعتماد نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران بھی امریکی نائب صدر کو واضح کر دیا گیا تھا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت طے پانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران پر بعض مالی پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے جیسے نکات شامل تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، تاہم ان کے بقول جنگ بندی کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی، جسے واشنگٹن نے قبول کر لیا، تاہم جنگ بندی بحال نہیں کی جائے گی۔