پشاور میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا تین ہزار کا ہوگیا ،فیصل آباد میں من مانے نرخ، سکھر میں 150 روپے کلو فروخت
ٹماٹر500،پیاز110،مٹر 250 ، ٹینڈے 200 ، برائلر 600، بڑا گوشت 1800،کھلا دودھ 240 روپے کلو تک پہنچ گیا
گھی 610، چینی 150، دال ماش 480، دال مونگ 420، باسمتی چاول 400، سرسوں کا تیل 750 روپے کلو فروخت
اسلام آباد (بیورو رپورٹ)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ بنیاد پر اضافے اورمہنگائی کے ہوش ربا طوفان نے تنخواہ دار اور سفید پوش طبقے کے ہوش اڑا دئیے ۔ مہنگائی کی شدت کے باعث موسمی سبزیاں اور پھل بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو گئے، آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ۔ٹماٹر پہلی بار 500 روپے فی کلو تک پہنچ گیا جبکہ درجہ دوئم ٹماٹر 440 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ۔ پیاز 110 روپے، آلو 40 روپے، برائلر مرغی کا گوشت 600 روپے، بغیر ہڈی بڑا گوشت 1800 روپے اور چھوٹا گوشت 2800 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ڈھابوں، چھپر ہوٹلوں اور کھوکھوں پر ایک وقت کا سادہ کھانا (دال یا سبزی کے ساتھ)250 روپے سے کم میں دستیاب نہیں جبکہ سادہ چائے 70 روپے اور دودھ پتی 100 سے 120 روپے میں فروخت ہو رہی ۔ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر کر دی ہے۔ گھریلو بجٹ درہم برہم ہو چکے ہیں، تنخواہ چند ہی دنوں میں ختم ہو جاتی ہے اور باقی مہینہ قرض لے کر گزارنا پڑتا ہے۔ اگرچہ آٹا، تندور کی روٹی اور چند سبزیوں، بشمول پیاز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم بیشتر اشیائے خورونوش مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں۔پیکٹ دودھ کا پائو 100 روپے، ایک لٹر پیکٹ دودھ 380 روپے، کھلا تازہ دودھ 240 روپے فی لٹر، کھلا دہی 260 روپے، چینی 150 روپے، گھی 610 روپے، دال مسور 320 روپے، دال مونگ 420 روپے، دال ماش 480 روپے، دال چنا 300 روپے، سفید چنے 320 روپے، باسمتی چاول 400 روپے، سرخ مرچ 800 روپے، ہلدی 800 روپے، سرسوں کا تیل 750 روپے، شکر 250 روپے، نہانے کا صابن 150 روپے، سرف 550 روپے فی کلو اور ہاف رول بسکٹ 40 روپے تک پہنچ چکا ہے۔سبزیوں میں مٹر 250 روپے، ٹینڈے 200 روپے، کدو 140 روپے، بھنڈی 150 روپے، کریلا 140 روپے، سبز مرچ 120 روپے، شملہ مرچ 130 روپے، ادرک 650 روپے اور لہسن 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ پھلوں میں سفید چونسہ درجہ اول 400 روپے، آڑو 300 روپے، خوبانی درجہ اول 350 روپے اور جامن 400 روپے فی کلو دستیاب ہیں۔دوسری جانب بجلی کے بھاری بلوں اور 200 یونٹس کی حد نے شہریوں کو روزانہ میٹر چیک کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ مقررہ حد سے تجاوز نہ ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ جاری ہے جس کے باعث عوام مہنگائی کے مسلسل دبائو کا سامنا کر رہے ہیں۔پٹرولیم قیمتوں میں باربار اضافے اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے پرملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ ،جسکے باعث شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا۔آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پشاور میں دو روز میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 100 سے 150 روپے مہنگا ہو گیا۔ مکس آٹے کا 20 کلو تھیلا 2650 سے بڑھ کر 2800 جبکہ فائن آٹے کا 20 کلو تھیلا 2900 سے بڑھ کر 3000 کا ہو گیا۔فی کلو آٹا 145 سے 150 روپے تک پہنچ گیا۔آٹا ڈیلرز کاکہناہے کہ گندم مہنگی ہونے پر آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ فیصل آباد میں بھی آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں آٹے کے الگ الگ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔ تندور مالکان نے بھی روٹی کی قیمت بڑھا دی ہے۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں گندم مہنگی مل رہی ہے جس وجہ سے قیمتیں بڑھائی ہیں۔سکھر میں فائن آٹا 130 سے 135 جبکہ چکی کا آٹا 140 سے 150 روپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے، حکومت اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور گندم کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔