روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ روس کو یوکرین میں فوجی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور اس کی ذمہ داری مغربی ممالک کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پوٹن نے روسی بحریہ کے اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برسوں سے جاری مغربی دباؤ اور یوکرین میں ہونے والی پیش رفت کے باعث ماسکو کے پاس "خصوصی فوجی آپریشن" شروع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق پوٹن نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع نہ کرنے سے متعلق اپنی سابقہ یقین دہانیوں پر قائم نہیں رہے، جبکہ روس کے بارہا اعتراضات کے باوجود نیٹو کی توسیع کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔واضح رہے کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں اور روسی حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔