روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے افہام و تفہیم تک پہنچ گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، پوٹن نے آمادگی ظاہر کی کہ وہ ٹرمپ کی ثالثی میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ الاسکا ملاقات کے بعد دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں یوکرین میں امن کی راہیں کھل سکتی ہیں۔
پوٹن کا موقف اور دفاع
صدر پوٹن نے چین کے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں اپنے فیصلے کا دفاع کیا کہ یوکرین پر حملہ روسی ضرورت کے نتیجے میں نہیں بلکہ یوکرین میں بغاوت کے بعد ہوا۔
پوٹن نے مغربی ممالک کو اس جنگ کا ذمہ دار قرار دیا اور الزام لگایا کہ مغربی ممالک نے یوکرین کی اندرونی بغاوت کو حمایت فراہم کرکے روس کے ساتھ جنگ میں تبدیل کیا۔روسی صدر نے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششوں کو بھی جنگ کی ایک وجہ بتایا۔انہوں نے چین اور دیگر حلیف ممالک کی سہولت کاری اور ثالثی کے اقدامات پر شکریہ بھی ادا کیا۔
الاسکا ملاقات اور ممکنہ امن معاہدہ
الاسکا میں ملاقات کے بعد امریکا کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے کہا تھا کہ روسی صدر نے مستقبل کے ممکنہ امن معاہدے کے کچھ نکات پر اتفاق کیا، جن میں یوکرین کے لیے سکیورٹی کی ضمانت بھی شامل ہے، حالانکہ روس نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی۔یہ ملاقات یوکرین جنگ کے سلسلے میں مستقبل کے مذاکرات اور ثالثی کے امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔