ولادیمیر پیوٹن، روس کے صدر، دنیا کے سب سے محفوظ اور حساس رہنماؤں میں سے ایک ہیں جن کی سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی نوعیت کے خطرات سے بچا جا سکے، خاص طور پر ان کا اسمارٹ فون استعمال نہ کرنے کا فیصلہ اس ضمن میں ایک اہم پہلو ہے۔پیوٹن کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اسمارٹ فون استعمال نہیں کرتے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے متعدد مواقع پر یہ واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ سے جڑے آلات ان کے لیے مناسب نہیں ہیں کیونکہ یہ رازداری اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کا استعمال خاص طور پر سرکاری رہنماؤں کے لیے محفوظ نہیں ہے، کیونکہ ان میں جاسوسی یا سیکیورٹی رسک کا امکان ہوتا ہے۔پیوٹن کے قریبی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی حکومت کے مرکز اور کریملن کے اندر بھی موبائل فون لانے پر مکمل پابندی ہے۔ اگر انہیں کسی سے رابطہ کرنا ہو تو یہ کام سرکاری لائن کے ذریعے کیا جاتا ہے، تاکہ کسی بھی غیر مجاز رسائی یا جاسوسی سے بچا جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ سیکیورٹی کے اس سخت نظام کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔
پیوٹن کی سیکیورٹی کا نظام دنیا بھر میں سب سے سخت سمجھا جاتا ہے۔ جب وہ کسی غیر ملکی دورے پر جاتے ہیں، تو ان کے ارد گرد کے ماحول، رہائش، غذا اور نقل و حمل کو انتہائی باریک بینی سے چیک کیا جاتا ہے۔ ان کے قیام کی جگہیں خصوصی طور پر صاف اور سینیٹائز کی جاتی ہیں، اور کھانے پینے کی اشیاء کو زہر یا آلودگی سے بچانے کے لیے پہلے سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، موبائل فون یا انٹرنیٹ سے منسلک آلات کو ان کے قریب رکھنے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی جاسوسی یا سیکیورٹی رسک سے بچا جا سکے۔اس ساری حفاظتی تدابیر کا مقصد پیوٹن کی زندگی اور حکومتی امور کو ہر ممکن حد تک محفوظ بنانا ہے، کیونکہ ان کی سیکیورٹی کو دنیا کے دیگر رہنماؤں سے زیادہ حساس اور پیچیدہ سمجھا جاتا ہے۔