ایٹم کا نیا افق: طاقت، سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل آخری قسط

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
امریکاسعودی جوہری تعاون ایک بنیادی سوال کودوبارہ زندہ کرتاہے،کیاہروہ چیزجو انسان حاصل کرسکتاہے،اسے حاصل کرنا ضروری بھی ہے؟یہ سوال صرف سائنس کانہیں بلکہ اخلاقیات،سیاست اورانسانی شعورکاسوال ہے۔جوہری ٹیکنالوجی انسانی ذہانت کی عظیم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔اس نے طب،زراعت،صنعت اورتوانائی کے میدانوں میں انقلاب برپاکیا۔لیکن یہی ٹیکنالوجی اس وقت خطرے کاباعث بن جاتی ہے جب اسے خوف،مقابلے اورطاقت کی سیاست اپنے تابع کرلیں۔
سعودی عرب کیلئے اصل امتحان صرف جوہری صلاحیت حاصل کرنانہیں بلکہ یہ ثابت کرناہوگاکہ جدیدطاقت کاحقیقی معیارصرف ٹیکنالوجی کاحصول نہیں بلکہ اس کاذمہ دارانہ استعمال ہے۔امریکاکیلئے بھی امتحان صرف اپنے اتحادی کے ساتھ تعاون نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرناہے جہاں مفادات اوراصول ایک دوسرے کے مخالف نہ بنیں۔کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ قوموں نے کتنی طاقت حاصل کی،بلکہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ انہوں نے اس طاقت کوکتنی دانش مندی سے استعمال کیا۔
امریکاسعودی عرب جوہری تعاون کامستقبل صرف معاہدے کی شرائط سے طے نہیں ہوگابلکہ اس اعتمادسے طے ہوگاجواس کے نفاذکے دوران قائم کیاجائے گا۔اس کے سامنے دو مختلف راستے موجودہیں۔ایک راستہ وہ ہے جہاں یہ تعاون سعودی عرب کیلئے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیداکرے؛صنعتی ترقی کوفروغ دے؛سائنسی تحقیق کو مضبوط بنائے؛ مستقبل کی معیشت کیلئے نئی بنیاد فراہم کرے۔اگریہ منصوبہ شفافیت، ذمہ داری اورعالمی نگرانی کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے توسعودی عرب ایک ایسی مثال بن سکتاہے کہ قدرتی وسائل رکھنے والی ریاست کس طرح علم اورٹیکنالوجی پرمبنی جدید معیشت تشکیل دے سکتی ہے۔لیکن دوسراراستہ وہ ہے جہاں علاقائی عدم اعتمادبڑھ جائے اوریہی منصوبہ طاقت کے مقابلے کی علامت بن جائے۔ایسی صورت میں ایران اپنی سلامتی کی پالیسی مزیدسخت کرسکتاہے؛دیگرخلیجی ممالک بھی نئی صلاحیتوں کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں؛ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجودکشیدگی مزیدگہری ہوسکتی ہے۔اسی لیے اصل فیصلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں کرے گی،بلکہ وہ سیاسی حکمت،سفارتی بصیرت اورذمہ دارانہ قیادت کرے گی جواس ٹیکنالوجی کے گردقائم کی جائے گی۔
امریکاسعودی عرب جوہری تعاون واشنگٹن کیلئے محض ایک سفارتی کامیابی یامعاشی موقع نہیں بلکہ ایک پیچیدہ توازن کاامتحان بھی ہے۔امریکاایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کومضبوط بناناچاہتاہے،کیونکہ خلیجی خطے میں سعودی عرب سیاسی،معاشی اورسلامتی کے اعتبارسے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتاہے۔دوسری طرف واشنگٹن کے سامنے یہ ذمہ داری بھی موجودہے کہ وہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤکے اصولوں،شفافیت اورعلاقائی استحکام کے تقاضوں کونظر اندازنہ کرے۔یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی پالیسی کا اصل امتحان شروع ہوتاہے۔اگرامریکاصرف اپنے فوری تزویراتی مفادات کوترجیح دیتاہے اور نگرانی،شفافیت اورحفاظتی اصول کمزورپڑجاتے ہیں تواس پردوہرے معیارکے الزامات لگ سکتے ہیں۔لیکن اگرواشنگٹن ایک ایسا ماڈل قائم کرتاہے جس میں جدید جوہری ٹیکنالوجی تک پرامن رسائی؛سخت حفاظتی معیار؛مؤثرعالمی نگرانی؛علاقائی اعتمادسازی؛ 
اورذمہ دارانہ استعمال کے اصول ایک ساتھ آگے بڑھیں،تو یہ تعاون مستقبل کیلئے ایک نئی مثال بن سکتاہے۔اصل کامیابی صرف ایک معاہدہ کرنے میں نہیں بلکہ ایسااعتمادپیدا کرنے میں ہوگی جوآنے والی دہائیوں تک قائم رہ سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہاں ہربڑی تزویراتی تبدیلی کیساتھ کئی نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔یہ خطہ صرف وسائل کی سرزمین نہیں بلکہ تہذیبوں،مذاہب،ثقافتوں اورعالمی راستوں کامرکزبھی ہے۔یہاں ہونے والے فیصلے صرف حکومتوں تک محدودنہیں رہتے بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل پراثراندازہوتے ہیں۔اگرسعودی عرب کا جوہری پروگرام صرف توانائی،تحقیق اور ترقی کے مقاصدتک محدودرہتاہے،عالمی اصولوں کے مطابق آگے بڑھتاہے اورعلاقائی اعتمادسازی کے ساتھ منسلک رہتاہے تویہ پورے خطے کیلئے ایک مثبت مثال بن سکتاہے لیکن اگراسے علاقائی طاقت کے حصول کی علامت سمجھاگیاتواس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے عدم اعتماد ،تنازعات اورجغرافیائی سیاسی کشمکش کاسامناکررہاہے۔ایسے ماحول میں نئی تزویراتی صلاحیتیں اگرتعاون کے بجائے مقابلے کی زبان میں سمجھی جائیں توخطے کاعدم استحکام مزید بڑھ سکتاہے۔اصل چیلنج یہ ہے کہ جوہری توانائی کوطاقت کے مقابلے کاذریعہ بنانے کی بجائے ترقی اورامن کے وسیلے میں تبدیل کیاجائے۔
اکیسویں صدی میں طاقت کاتصوربنیادی طورپرتبدیل ہورہاہے۔ماضی میں طاقت کاتعلق زیادہ ترفوجی قوت،سرزمین اورقدرتی وسائل سے تھا،لیکن آج حقیقی طاقت ان ممالک کے پاس ہے جوٹیکنالوجی،معیشت،توانائی،تعلیم،تحقیق اورسفارت کاری کوایک مربوط حکمت عملی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔سعودی عرب کاجوہری سفربھی اسی وسیع ترتبدیلی کی
 علامت ہے۔یہ ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جواپنی شناخت کوصرف تیل کے ذخائر سے آگے لے جاناچاہتاہے اورخود کوجدید معیشت،سائنس،سرمایہ کاری اورٹیکنالوجی کے میدان میں ایک عالمی مرکزکے طورپر دیکھناچاہتاہے۔
لیکن ہرنئی طاقت اپنے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔جوہری صلاحیت کااصل امتحان یہ نہیں کہ کون اسے حاصل کرتاہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اسے کس مقصد،کس دانش مندی اورکس اخلاقی شعورکے ساتھ استعمال کرتاہے کیونکہ طاقت اگرحکمت سے جدا ہوجائے توخوف پیداکرتی ہے،لیکن اگرذمہ داری کے ساتھ استعمال ہوتو ترقی کاذریعہ بن جاتی ہے ۔دنیاتیزی سے ایسے دورمیں داخل ہورہی ہے جہاں توانائی کامستقبل صرف تیل اورگیس سے وابستہ نہیں رہے گا۔صاف توانائی،جدید صنعت،مصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل معیشت اورسائنسی تحقیق آنے والے وقت کی بنیادی قوتیں ہوں گی۔
ایسے میں جوہری توانائی سعودی عرب کوکئی اہم مواقع فراہم کرسکتی ہے۔توانائی کے ذرائع میں تنوع؛صنعتی شعبے کی مضبوطی؛ سائنسی تحقیق کافروغ؛نئی نسل کیلئے تکنیکی مہارتوں کے مواقع؛اورمستقبل کی معیشت کیلئے مضبوط بنیادہیں۔اگریہ سفرشفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ جاری رہتاہے توسعودی عرب ایک ایسی مثال بن سکتاہے کہ کس طرح قدرتی وسائل رکھنے والی ریاست علم اور ٹیکنا لوجی پرمبنی معیشت کی طرف منتقل ہوسکتی ہے۔یہ تبدیلی صرف سعودی عرب تک محدودنہیں رہے گی بلکہ پورے خلیجی خطے کے معاشی مستقبل پراثر انداز ہو سکتی ہے۔
امریکاسعودی عرب جوہری تعاون دراصل ایک بڑے انسانی سوال کی علامت ہے۔کیاطاقت کاحصول انسان کوزیادہ محفوظ بناتاہے، یاطاقت کے ساتھ آنے والی ذمہ داری ہی حقیقی تحفظ فراہم کرتی ہے؟جوہری توانائی نے انسان کوکائنات کی ایک عظیم قوت تک رسائی دی۔ایٹم کی تقسیم نے بجلی کے نئے دروازے کھولے،طب کے میدان میں انقلاب برپا کیا،صنعت کونئی رفتاردی اورترقی کے بے شمار امکانات پیداکیے لیکن اسی ایٹم نے انسان کویہ سبق بھی دیاکہ بعض قوتیں صرف حاصل کرناکافی نہیں ہوتیں،انہیں قابومیں رکھنابھی ضروری ہوتاہے کیونکہ ایٹم کی اصل طاقت اس کے اندر چھپی توانائی نہیں بلکہ اس انسان کی دانش مندی میں ہے جواس توانائی کواستعمال کرتاہے۔
تاریخ کے بڑے فیصلے اکثراپنے وقت میں مکمل طورپرواضح نہیں ہوتے۔بعض اوقات ایک معاہدہ بظاہرصرف ایک معاشی یاتکنیکی قدم دکھائی دیتاہے،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ عالمی سیاست کے بڑے موڑکی حیثیت اختیارکرلیتاہے۔امریکاسعودی عرب جوہری تعاون بھی ایساہی ایک مرحلہ ہے۔یہ صرف دوممالک کے درمیان ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کاامتحان ہے،کیا انسان اپنی حاصل کردہ طاقت کواپنی حکمت کے تابع رکھ سکتاہے؟اگریہ تعاون ترقی، شفافیت اورامن کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے تویہ ایک نئی صبح کاآغازبن سکتاہے۔لیکن اگر طاقت،خوف اورمقابلہ اس پرغالب آگئے تویہی روشنی اپنے ساتھ سائے بھی پیداکرسکتی ہے۔کیونکہ جوہری عہدہمیں یہی سبق دیتاہے کہ اگرترقی رفتارہے توذمہ داری اس کی سمت ہے۔اگرطاقت ایک چراغ ہے تودانش مندی اس کامحافظ ہے اوراگرجوہری توانائی مستقبل کا دروازہ ہے توانسانی شعوروہ چابی ہے جو طے کرے گی کہ یہ دروازہ روشنی کی طرف کھلے گایااندھیرے کی طرف۔
مشرقِ وسطیٰ آج ایک ایسے تاریخی موڑپرکھڑاہے جہاں جوہری تعاون اسی امتحان کاحصہ اورآے والی نسلوں کے مستقبل پراثراندازہوسکتاہے۔ یہ معاہدہ ایک نئی صبح،نئی ترقی اورنئی سائنسی پیش رفت کاآغازبن سکتاہے، بشرطیکہ طاقت کوحکمت کے ساتھ استعمال کیاجائے ۔تاریخ کاسبق یہی ہے،قومیں صرف اپنی طاقت سے عظیم نہیں بنتیں،بلکہ اپنی طاقت کوذمہ داری،دانش مندی اور انسانیت کے اصولوں کے مطابق استعمال کرنے کی صلاحیت سے عظیم بنتی ہیں اوریہی وہ فکری توازن ہے جوجوہری عہدمیں انسان کی بقا،امن اورمستقبل کی اصل ضمانت ہے۔