ایٹم کا نیا افق: طاقت، سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
دنیاکاتجربہ یہ بتاتاہے کہ جوہری علم حاصل کرنے کے بعداس کیاثرات صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں رہتے۔ایندھن کاچکر، تحقیق،افزودگی کی صلاحیت اورمتعلقہ تکنیکی مہارتیں ایسی صلاحیتیں ہیں جن کی دوہری نوعیت ہوتی ہے۔یعنی وہ ترقی کاذریعہ بھی بن سکتی ہیں اورطاقت کے حصول کی بنیادبھی۔اسی لیے عالمی ادارے کسی بھی نئے جوہری پروگرام کو صرف معاشی ترقی کے زاویے سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کے ممکنہ تزویراتی اثرات کابھی جائزہ لیتے ہیں۔
امریکاسعودی جوہری تعاون کوایران کے پس منظرکے بغیرمکمل طورپرسمجھناممکن نہیں۔ایران اورسعودی عرب کیدرمیان کئی دہائیوں سے جاری علاقائی اثرورسوخ کی رقابت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔شام،یمن،عراق،لبنان اور خلیجی سلامتی کے معاملات میں دونوں ممالک کے مفادات کئی مواقع پرایک دوسرے سے 
متصادم رہے ہیں۔اگرچہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کیدرمیان سفارتی رابطوں میں بہتری کےآثاربھی سامنے آئے،لیکن تاریخی عدم اعتماداورعلاقائی مقابلہ اب بھی موجود ہے۔ایسے ماحول میں سعودی عرب کی جوہری پیش رفت کوتہران محض ایک توانائی منصوبے کے طورپرنہیں دیکھ سکتا۔اگرایران کویہ محسوس ہوتاہے کہ خطے میں طاقت کاتوازن اس کے خلاف تبدیل ہو رہاہے،تواس کاردعمل مشرقِ وسطی کی سلامتی پراثراندازہو سکتاہے۔یہاں اصل خطرہ صرف جوہری صلاحیت کا ہیں بلکہ عدم اعتماد کے بڑھتے ہوئے دائرے کاہے۔عالمی سیاست میں اکثرریاستیں دوسرے ممالک کے موجودہ ارادوں سے زیادہ ان کے ممکنہ مستقبل کے اقدامات کے خوف سے اپنی پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں۔ایک ملک جسے اپنی سلامتی کیلئے دفاعی قدم محسوس ہوتا ہے، دوسراملک اسے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اعتمادسازی کی اہمیت سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
سعودی عرب کامؤقف یہ رہاہے کہ خطے میں کسی بھی ملک کوایسی صلاحیت حاصل نہیں ہونی چاہیے جودوسرے ممالک کیلئے عدم تحفظ پیدا کرے لیکن بین الاقوامی سیاست میں صرف ارادے کافی نہیں ہوتے،تصورات بھی اہم کرداراداکرتے ہیں۔اورجب اعتماد کمزورہوتواچھے ارادے بھی شکوک کی نظرسے دیکھے جانے لگتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ طاقت کے نظام میں اسرائیل ایک منفردمقام رکھتاہے۔اگرچہ اسرائیل اپنی جوہری صلاحیت کے بارے میں سرکاری طورپرواضح پالیسی اختیارنہیں کرتا، لیکن خطے کے تزویراتی توازن میں اس کاکردارہمیشہ اہم رہاہے۔سعودی عرب کی جوہری پیش رفت اسرائیل کیلئے ایک حساس مسئلہ اس لیے بھی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ سلامتی کے ڈھانچے اورعسکری برتری کوبرقراررکھناچاہتاہے۔اگرچہ گزشتہ برسوں میں سعودی عرب اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سفارتی امکانات پیداہوئے ہیں،لیکن جوہری صلاحیت کامعاملہ اعتماد،سلامتی اورعلاقائی توازن کے سوالات کومزیدپیچیدہ بناسکتاہے۔
اسرائیلی تشویش کی بنیادصرف یہ نہیں کہ سعودی عرب جوہری ٹیکنالوجی حاصل کررہاہے،بلکہ یہ بھی ہے کہ اگرخطے کے دیگر ممالک بھی اسی راستے پرچلنے لگے تومشرقِ وسطیٰ کاموجودہ طاقت کاڈھانچہ بنیادی طورپرتبدیل ہوسکتاہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی تزویراتی تبدیلیاں اکثرایک ملک تک محدودنہیں رہتیں۔ایک ریاست کی نئی صلاحیت دوسرے ممالک کوبھی اپنی سلامتی کی پالیسیوں پرنظرثانی کرنے پرمجبورکرسکتی ہے۔
اگرسعودی عرب ایک مکمل جوہری پروگرام قائم کرتاہے توممکن ہے کہ دیگرخلیجی ریاستیں بھی مستقبل میں اپنی توانائی اورسلامتی کی حکمت عملی میں جوہری عنصر شامل کرنے کی کوشش کریں ۔ایسی صورتحال ایک ایسے ماحول کوجنم دے سکتی ہے جہاں ہر ریاست اپنی حفاظت کیلئے نئی صلاحیتیں حاصل کرناچاہے،مگرمجموعی طورپرپوراخطہ مزیدغیرمحفوظ ہوجائے۔
تاریخ کاایک تلخ سبق یہی ہے کہ ہتھیاروں کی دوڑاکثرتحفظ کے نام پرشروع ہوتی ہے،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ خوف،عدم اعتماد اورمقابلے کے ایسے دائرے کوجنم دیتی ہ ہے جس سے نکلنامشکل ہوجاتاہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کوآج صرف علاقائی طاقتوں کے درمیان رقابت کے زاویے سے نہیں دیکھاجاسکتا۔یہ خطہ اب ایک وسیع ترعالمی مقابلے کامیدان بن چکاہے،جہاں بڑی طاقتیں توانائی، تجارت،ٹیکنالوجی،سلامتی اورسفارتی اثرورسوخ کیلئے اپنی حکمت عملیاں تشکیل دے رہی ہیں۔امریکاسعودی عرب جوہری تعاون بھی اسی عالمی کشمکش کاایک اہم پہلوہے جہاں عالمی طاقتوں کی نئی بساط امریکا،چین اورروس کامقابلہ واضح نظرآرہاہے۔
دنیاکی تاریخ میں طاقت کے مراکزہمیشہ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔کبھی سمندری راستوں پرقبضہ عالمی برتری کی علامت تھا،کبھی صنعتی پیداوارطاقت کاپیمانہ بنی،پھرتیل نے بیسویں صدی کی عالمی سیاست کونئی سمت دی۔لیکن اکیسویں صدی میں طاقت کاتصورمزید پیچیدہ ہوچکاہے۔آج توانائی،جدیدٹیکنالوجی،مصنوعی ذہانت،سائنسی تحقیق،دفاعی صلاحیت اوراقتصادی اثرورسوخ مل کرکسی ریاست کی اصل طاقت کاتعین کرتے ہیں۔اسی لیے مشرقِ وسطی میں جوہری توانائی کامعاملہ صرف بجلی پیداکرنے کامسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت کے توازن کاحصہ بھی ہے۔
گزشتہ برسوں میں چین نے خلیجی خطے میں اپنی اقتصادی اورسفارتی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیاہے۔توانائی کی تجارت،بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں،سرمایہ کاری اورطویل المدتی اقتصادی شراکت داریوں کے ذریعے بیجنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم مقام حاصل کیاہے۔چین کیلئے خلیجی ممالک صرف توانائی کے ذرائع نہیں بلکہ عالمی تجارت،سرمایہ کاری اورمستقبل کی اقتصادی حکمت عملی کااہم حصہ ہیں۔سعودی عرب کے ساتھ چین کے تعلقات بھی اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھے جاتے ہیں۔
ریاض اب عالمی سیاست میں کسی ایک طاقت کیساتھ مکمل وابستگی کی بجائے مختلف عالمی مراکزکے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیارکررہاہے۔یہ نئی سعودی سفارت کاری کابنیادی اصول بنتاجارہاہے،شراکت داری سب کے ساتھ،انحصارکسی ایک پرنہیں۔اسی حکمت عملی کے تحت سعودی عرب امریکاکے ساتھ سلامتی اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھاتاہے،چین کیساتھ اقتصادی روابط کووسعت دیتاہے،اوردیگرعالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعلقات کومتوازن رکھنے کی کوشش کرتاہے۔
روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی برقراررکھنے کی کوشش کررہاہے۔توانائی کے میدان میں روس اورخلیجی ممالک کے درمیان تعاون،دفاعی تعلقات اورعلاقائی سیاست میں سفارتی روابط نے ماسکوکوخطے میں ایک اہم کھلاڑی بنائے رکھاہے۔اگرچہ روس کے وسائل امریکایاچین کے برابرنہیں،لیکن شام جیسے معاملات میں اس کاکرداریہ ثابت کرتاہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کوعالمی سیاست کے بڑے میدان کے طورپردیکھتاہے۔ایسے ماحول میں امریکاسعودی جوہری تعاون کوواشنگٹن کیلئے صرف ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک 
جغرافیائی سیاسی پیغام بھی سمجھاجاسکتاہے۔یہ پیغام یہ ہے کہ امریکااب بھی خلیجی سلامتی،جدیدٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے میدان میں ایک مرکزی کرداررکھتاہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں پاکستان کاذکربھی اہمیت رکھتاہے۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے،سعودی عرب کے ساتھ اس کے تاریخی،دفاعی،اقتصادی اوربرادرانہ تعلقات موجودہیں،جبکہ خلیجی سلامتی کے معاملات میں اسلام آبادکاکردارکئی دہائیوں سے نمایاں رہاہے۔اگرچہ امریکاسعودی جوہری تعاون بنیادی طورپردوریاستوں کے درمیان ایک معاملہ ہے،لیکن خطے کی وسیع ترسلامتی کے تناظرمیں پاکستان ایک ایساملک ہے جس کے تجربات،سفارتی روابط اوردفاعی تعلقات کونظر اندازنہیں کیاجا سکتا۔ پاکستان کیلئے بھی یہ ایک حساس سفارتی توازن کامعاملہ ہے۔ایک طرف اسے اپنے دیرینہ دوستوں اورشراکت داروں کے ساتھ تعلقات کوبرقراررکھناہے،دوسری جانب اسے عالمی عدم پھیلاؤکے اصولوں،علاقائی امن اورسلامتی کے تقاضوں کوبھی مدنظررکھناہے۔ پاکستان کاممکنہ کرداربراہ راست جوہری تعاون سے زیادہ سفارتی اعتمادسازی،علاقائی مکالمے اورامن کے فروغ کے حوالے سے اہم ہوسکتاہے۔ایک ایسے خطے میں جہاں طاقت کے مقابلے کے امکانات موجودہوں،پاکستان اپنے تاریخی تجربے اورسفارتی تعلقات کے ذریعے ایک پل کاکرداراداکرسکتاہے۔خاص طورپراس لیے کہ پاکستان خودجانتاہے کہ جوہری طاقت صرف ایک تکنیکی صلاحیت نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
جوہری تعاون کاسب سے اہم ستون صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتمادہوتاہے۔دنیابھرمیں جوہری پروگرام سخت نگرانی،شفافیت اوربین الاقوامی اصولوں سے منسلک  کیے جاتے ہیں ، کیونکہ جوہری شعبے میں چھوٹی سی غلطی بھی بڑے اثرات پیداکرسکتی ہے۔اگرنگرانی کے نظام مضبوط ہوں،معلومات کاتبادلہ شفاف ہواوربین الاقوامی اداروں کاکردارمؤثررہے تو جوہری توانائی ترقی کاایک شاندارذریعہ بن سکتی ہے لیکن اگراعتمادکافقدان پیداہوجائے یایہ تصورمضبوط ہوجائے کہ جوہری ٹیکنالوجی علاقائی طاقت کے حصول کاذریعہ بن رہی ہے تو یہی منصوبہ کشیدگی کاسبب بھی بن سکتاہے۔جوہری توانائی کامستقبل دراصل صرف ری ایکٹرز،ایندھن اورٹیکنالوجی سے طے نہیں ہوگابلکہ اس سیاسی اوراخلاقی ماحول سے طے ہوگاجس میں اسے استعمال کیاجائے گا۔(جاری ہے)