مدثر مسعود چودھری
مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے دنیا کی سیاست کا وہ مرکز رہا ہے جہاں طاقت کے کھیل سب سے زیادہ پیچیدہ، اتحاد سب سے زیادہ نازک اور مفادات سب سے زیادہ خطرناک انداز میں آپس میں ٹکراتے ہیں، مگر 9 ستمبر کا دن اس خطے میں ایک نئے موڑ کی علامت بن گیا جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے مذاکرات کاروں کو نشانہ بنایا، یہ کارروائی معمولی نوعیت کی نہیں تھی کیونکہ قطر نہ صرف امریکہ کا قریبی اتحادی ہے بلکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے جہاں العدید ایئربیس واقع ہے اور اس پر حملہ دراصل واشنگٹن کی سکیورٹی گارنٹی کو کھلی للکار تھا، سوال یہ اٹھنے لگا کہ اگر ایک ایسا ملک جسے امریکہ برسوں سے اپنی مکمل سکیورٹی کے دائرے میں شمار کرتا ہے براہِ راست حملے کا نشانہ بنتا ہے اور جواب میں صرف زبانی بیانات سننے کو ملتے ہیں تو پھر مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک اپنی سلامتی کے لیے کس پر بھروسہ کریں گے، یہ وہ ماحول تھا جس میں سعودی عرب اور پاکستان نے ایک غیرمعمولی معاہدے پر دستخط کیے جسے "باہمی دفاع کا اسٹریٹجک معاہدہ" قرار دیا گیا اور اس کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا، دونوں ممالک نے اپنی مشترکہ بقا کے لیے ایک نئی ڈھال تیار کر لی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی دور رس اثرات ڈالے گی۔اسرائیل کے خلاف عالمی ردِعمل اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پس منظر فراہم کرتا ہے کیونکہ قطر پر حملے کے بعد صرف عرب دنیا ہی نہیں بلکہ یورپ اور ایشیا میں بھی اس کارروائی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، یورپی یونین کے بعض ممالک نے اگرچہ روایتی غیرجانبدارانہ لہجہ اپنایا مگر عوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف احتجاج بڑھا، ترکی نے کھل کر اسرائیل کی مذمت کی اور ایران نے اسے خطے میں امریکی و صہیونی سازشوں کا تسلسل قرار دیا، چین نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر پر حملہ دراصل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے جبکہ روس نے اس حملے کو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا، پاکستان نے بھی شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ مسلم امہ کو دبانے اور مزاحمت کو کچلنے کی سازش ہے لیکن اس مرتبہ محض بیانات پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے دنیا کو بتایا گیا کہ مسلم ممالک اب اپنی سکیورٹی خود سنبھالنے کے لیے تیار ہیں، یہی وہ لمحہ تھا جب سعودی۔پاکستان معاہدہ منظر پر آیا اور اسرائیل کے خلاف ایک غیرعلانیہ مگر عملی پیغام کی حیثیت اختیار کر گیا۔پاکستان کی داخلی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ ایک غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کے اندر معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور عوامی بے چینی نے ایک ایسا ماحول بنا دیا تھا جس میں کسی بڑے سفارتی اقدام کی اشد ضرورت تھی، وزیراعظم میاں شہباز شریف کے سعودی عرب کے دورے اور اس معاہدے پر دستخط نے نہ صرف ملکی سطح پر حکومت کی ساکھ بہتر کی بلکہ اپوزیشن کے اس بیانیے کو بھی کمزور کیا کہ حکومت عالمی سطح پر تنہا ہو چکی ہے، فوجی قیادت کی شمولیت نے بھی یہ پیغام دیا کہ ریاست پاکستان اپنی پالیسی میں یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اب قومی سلامتی صرف بیانات پر نہیں بلکہ حقیقی اتحادی فریم ورک پر کھڑی ہے، یہ داخلی سطح پر ایک ایسا تاثر ہے جو حکومت کے لیے نہایت قیمتی ہے کیونکہ عوام کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ ملک دفاعی طور پر محفوظ ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے دوست اور شراکت دار بڑھ رہے ہیں۔ یہ معاہدہ صرف عسکری اتحاد نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کے ایک نئے دور کا دروازہ بھی کھول رہا ہے، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی خبریں پہلے ہی موجود ہیں اور اب دفاعی معاہدے نے ان کو مزید عملی شکل دینے کا ماحول پیدا کر دیا ہے، یہ سرمایہ کاری نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھائے گی بلکہ پاکستان کی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، ساتھ ہی ساتھ یہ پیغام بھی ملے گا کہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان ایک غیرمحفوظ ملک نہیں بلکہ خطے میں ایک مستحکم پارٹنر بن رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی پیداوار، تربیت اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں کسی بھی غیرمتوقع جارحیت کا جواب زیادہ مربوط اور موثر انداز میں دیا جا سکے گا، یہ سب دشمن کے لیے ایک کھلا اشارہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اب دفاعی لحاظ سے الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔تاریخی تناظر بھی اس معاہدے کو مزید مضبوط بناتا ہے کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے جذباتی اور مذہبی رشتوں پر قائم رہے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان تعلقات میں عملی پہلو شامل ہوئے ہیں، ماضی میں جب بھی پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوا سعودی عرب نے امداد اور تیل کی فراہمی کے ذریعے ہاتھ تھاما، دوسری طرف پاکستان نے بھی ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی قربانیوں کا ثبوت دب دیا۔ افغانستان کی جنگ سے لے کر خلیجی تنازعات تک پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو عملی رنگ دیا ہے، اس معاہدے نے اس تاریخی رشتے کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ یہ تعلقات محض وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ ایک مستقل اسٹریٹجک رشتے میں بدل چکے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے اتحادوں میں یہ معاہدہ ایک نئے باب کی علامت ہے کیونکہ اس وقت خطے میں ایران، ترکی، قطر، مصر اور خلیجی ممالک سب اپنی اپنی سمت میں پالیسی مرتب کر رہے ہیں، ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ بہتری اور چین کی ثالثی سے ہونے والے معاہدے نے بھی خطے میں نئی صف بندی پیدا کی ہے، اب پاکستان کو اس کھیل میں شامل کرنے سے سعودی عرب نے ایک طرح سے اپنی پشت مضبوط کر لی ہے کیونکہ پاکستان کی فوجی طاقت اور ایٹمی حیثیت خطے میں ایک ایسی قوت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ترکی بھی پہلے ہی اسرائیل کے خلاف کھل کر بیان دے رہا ہے اور ایران تو عرصے سے صہیونی ریاست کے خلاف کھڑا ہے، اس پس منظر میں سعودی۔پاکستان معاہدہ ایک ایسا اقدام ہے جو مسلم امہ کے اندرونی اتحاد کو مزید مستحکم کر سکتا ہے، اگر یہ اتحاد آگے بڑھا تو اسرائیل اور اس کے مغربی حمایتیوں کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔یہ سب عوامل مل کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی۔پاکستان معاہدہ صرف ایک کاغذی اعلان نہیں بلکہ ایک ایسا عملی قدم ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے، یہ دشمن کے لیے ایک خوف کی علامت ہے اور دوستوں کے لیے امید کی کرن ہے، اس معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا بلکہ پوری مسلم امہ کو یہ پیغام ملے گا کہ اتحاد ہی اصل طاقت ہے اور تقسیم دشمن کے مفاد میں جاتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے اس دورے کو اسی تناظر میں ایک تاریخی موقع کہا جا سکتا ہے جس نے سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئی لہر کو جنم دیا، آج جب اسرائیل جارحیت کو اپنی پالیسی بنا رہا ہے اور امریکہ اپنی سکیورٹی گارنٹی کو محض کاغذی وعدوں تک محدود رکھ رہا ہے تو ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے جو آنے والے برسوں میں تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔