ایٹم کا نیا افق: طاقت، سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
انسانی تاریخ میں توانائی کبھی بھی محض روشنی پیداکرنے یاصنعتوں کوچلانے کاذریعہ نہیں رہی،بلکہ یہ ہمیشہ تہذیبوں کے عروج، ریاستوں کی طاقت، معاشی ترقی اورعالمی سیاست کے رخ متعین کرنے والی بنیادی قوت رہی ہے۔جس طرح کوئلے نے صنعتی انقلاب کوجنم دیااوربھاپ کی طاقت نے دنیاکے معاشی ڈھانچے کوتبدیل کیا،جس طرح تیل نے بیسویں صدی کی جغرافیائی سیاست کوتشکیل دیااوردنیاکے طاقتورترین ممالک کے فیصلوں پراثراندازہوا،اسی طرح اکیسویں صدی میں توانائی،ٹیکنالوجی اورتزویراتی صلاحیتوں کا امتزاج طاقت کے ایک نئے تصورکوجنم دے رہاہے۔
آج دنیاایک ایسے دورمیں داخل ہوچکی ہے جہاں کسی ملک کی طاقت صرف اس کے فوجی اثاثوں،قدرتی وسائل یاجغرافیائی وسعت سے نہیں ناپی جاتی،بلکہ اس کی اصل قوت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ توانائی،سائنس،ٹیکنالوجی،تحقیق،مصنوعی ذہانت اور جدیدصنعت کوکس طرح اپنی قومی حکمت عملی کاحصہ بناتاہے۔اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مشرقِ وسطی ایک مرتبہ پھرتاریخ کے ایک حساس موڑپرکھڑاہے۔یہ خطہ صدیوں سے تہذیبوں،تجارت،سلطنتوں،جنگوں اورعالمی طاقتوں کے مقابلوں کامرکزرہاہے۔یہاں ہونے والاکوئی بھی بڑامعاہدہ محض دوریاستوں کے درمیان ایک سفارتی دستاویزنہیں ہوتابلکہ اس کیاثرات پورے خطے کیسیاسی،معاشی اورسلامتی کے نظام پرمرتب ہوتے ہیں۔
امریکااورسعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون کامعاملہ بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت ہے۔بظاہریہ ایک پرامن جوہری توانائی کے منصوبے کے طورپرسامنے آتاہے، جس کامقصدتوانائی کے متبادل ذرائع پیداکرنا،صنعتی ترقی کوفروغ دینااورمستقبل کی معیشت کیلئے نئے امکانات پیداکرناہے لیکن عالمی سیاست کی گہرائی میں دیکھاجائے تویہ معاملہ صرف بجلی پیداکرنے یاتوانائی کے حصول تک محدودنہیں رہتا،بلکہ اس کے اندرطاقت،تحفظ،سفارت کاری،علاقائی توازن اورعالمی اثرورسوخ کے کئی پیچیدہ پہلو پوشیدہ ہیں۔
سعودی عرب،جوکئی دہائیوں تک عالمی تیل منڈی کاایک بنیادی ستون رہاہے،اب اپنی قومی شناخت کوایک نئے مرحلے میں منتقل کرناچاہتاہے۔ریاض یہ سمجھتاہے کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں صرف تیل کے ذخائرکسی ملک کی مکمل طاقت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔آنے والادورعلم،ٹیکنالوجی،تحقیق،مصنوعی ذہانت،قابلِ تجدیدتوانائی اورجدید صنعتی صلاحیتوں کاہوگا۔اسی وژن کے تحت سعودی عرب نے وژن2030کے ذریعے اپنی معیشت کومتنوع بنانے کامنصوبہ پیش کیاہے،جس کامقصداسے محض ایک تیل پیدا کرنے والی ریاست سے ایک جدید،سرمایہ کاری دوست اورٹیکنالوجی پرمبنی عالمی مرکزمیں تبدیل کرناہے۔
جوہری توانائی اسی وسیع ترتبدیلی کاایک اہم حصہ ہے لیکن جوہری طاقت کاسفر کبھی بھی صرف سائنسی یامعاشی سفرنہیں ہوتا۔ایٹم کے اندرچھپی ہوئی قوت انسان کیلئے روشنی کاذریعہ بھی بن سکتی ہے اورخطرے کاسبب بھی۔یہی دوہراپہلو جوہری توانائی کودیگر تمام توانائی کے ذرائع سے مختلف بناتاہے۔ایک طرف جوہری توانائی کم مقدارمیں ایندھن سے بڑی مقدارمیں توانائی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،کاربن اخراج میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے اورطویل مدت میں توانائی کے بحران کاایک مثرحل فراہم کر سکتی ہے۔
دوسری جانب یہی ٹیکنالوجی اپنے اندرایسے حساس پہلورکھتی ہے جنہیں نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔جوہری علم،ایندھن کاچکر،یورینیم افزودگی اورمتعلقہ تکنیکی صلاحیتیں ایسی جہتیں ہیں جن کے اثرات صرف توانائی کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ براہ راست قومی سلامتی اورعالمی طاقت کے توازن سے جڑجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیاکی نظریں امریکا سعودی جوہری تعاون پر مرکوز ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب جوہری توانائی کیوں حاصل کرناچاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیایہ منصوبہ صرف توانائی، ترقی اورمعاشی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا؟کیااسے عالمی نگرانی،شفافیت اورذمہ داری کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایاجائے گا؟یاپھریہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے ایک نئے مقابلے کاآغازبن سکتاہے؟
جوہری توانائی کاہرقدم اپنے ساتھ ایک آئینہ لے کرآتاہے،جس میں انسان کی ترقی بھی نظرآتی ہے اوراس کی ذمہ داری کاامتحان بھی۔امریکاسعودی جوہری تعاون بھی اسی آئینے کے سامنے کھڑاایک ایساتاریخی لمحہ ہے جہاں سائنس،سیاست اورانسانی بصیرت ایک دوسرے سے سوال کررہی ہیں۔
سعودی عرب کیلئے جوہری توانائی کامنصوبہ محض بجلی پیداکرنے کاپروگرام نہیں بلکہ اس کے قومی مستقبل کے وسیع ترتصورکا حصہ ہے۔ایک ایسی ریاست جس کی معاشی طاقت طویل عرصے تک تیل کی برآمدات سے وابستہ رہی،اب یہ محسوس کررہی ہے کہ عالمی معیشت کامستقبل تیزی سے تبدیل ہورہاہے۔توانائی کی عالمی منڈی،موسمیاتی تبدیلی کے تقاضے،نئی ٹیکنالوجیزاورصنعتی مقابلہ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے دنیاکے ممالک کواپنی اقتصادی حکمت عملیوں پرنظرثانی کرنے پرمجبورکیاہے۔سعودی عرب بھی اسی تبدیلی کے سفرمیں شامل ہے ۔جوہری توانائی کے حصول کے پیچھے کئی بنیادی مقاصدموجودہیں۔سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات کوصرف تیل اورگیس تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ مستقبل کی ایک مضبوط معیشت کیلئے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اہم ہے یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ توانائی کانظام مختلف ذرائع پرقائم ہوتاکہ عالمی منڈی کے اتارچڑھاؤسے کم متاثرہو۔
دوسرامقصدصنعتی اورسائنسی ترقی کوفروغ دیناہے۔جوہری توانائی صرف بجلی پیداکرنے کاذریعہ نہیں ہوتی۔اس کے ساتھ انجینئرنگ،تحقیق،طبی شعبے،جدیدصنعت،سائنسی تعلیم اورانسانی وسائل کی ترقی کے وسیع امکانات وابستہ ہوتے ہیں۔
تیسرامقصدوژن2030کوعملی بنیادفراہم کرناہے۔سعودی عرب ایک ایسی معیشت تشکیل دیناچاہتاہے جس میں سرمایہ کاری،علم، ٹیکنالوجی اورجدت بنیادی کردارادا کریں۔ جوہری شعبہ اسی جدید معیشت کے قیام کی ایک کڑی ہے لیکن سعودی عرب کا یہ سفر صرف داخلی ضرورتوں تک محدود نہیں۔اس کے عالمی اثرات بھی ہیں،کیونکہ توانائی کے میدان میں کوئی بڑی تبدیلی ہمیشہ بین الاقوامی سیاست پراثراندازہوتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں امریکاکاکردارسامنے آتاہے۔امریکاسعودی عرب جوہری تعاون کوصرف ریاض کی توانائی کی ضروریات کے تناظرمیں دیکھنااس کی مکمل تصویرپیش نہیں کرتا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ واشنگٹن کی وسیع تر مشرقِ وسطی پالیسی، عالمی طاقتوں کے مقابلے اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
امریکاکیلئے سعودی عرب کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطی میں ایک اہم شراکت داررہاہے۔اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مختلف ادوارمیں کئی نشیب وفرازسے گزرے،انسانی حقوق،علاقائی پالیسیوں اوربعض سیاسی اختلافات کے باعث تنقیدکاسامنابھی رہا،لیکن توانائی،دفاع،تجارت اورعلاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون نے دونوں ممالک کوایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔جوہری تعاون کا معاہدہ اسی طویل تعلق کوایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کی کوشش کے طورپردیکھاجاسکتاہے۔
واشنگٹن کیلئے اس تعاون کے کئی تزویراتی پہلوہیں۔خلیجی خطے میں اپنے دیرینہ اثرورسوخ کوبرقراررکھنا؛سعودی عرب کوجدید امریکی ٹیکنالوجی اورسرمایہ کاری کے نیٹ ورک سے مزید مربوط کرنا؛چین اورروس کے بڑھتے ہوئے کردارکامقابلہ کرنا؛امریکی کمپنیوں کیلء یتوانائی،تحقیق اورجدید صنعت کے نئے مواقع پیداکرنا؛مشرقِ وسطی کے مستقبل میں امریکا کے کردارکودوبارہ مضبوط بنانا۔لیکن یہاں ایک بنیادی تضاد بھی موجودہے۔امریکاایک طرف سعودی عرب کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلقات چاہتا ہے،دوسری طرف وہ عالمی جوہری عدم پھیلاکے اصولوں کاایک اہم محافظ بھی سمجھاجاتاہے۔یہی تضاداس معاہدے کاسب سے بڑاسفارتی امتحان ہے۔
اگرواشنگٹن سعودی عرب کوزیادہ جوہری خودمختاری دیتاہے تواسے یہ بھی یقینی بناناہوگاکہ یہ تعاون ایسے راستے پرنہ جائے جو مستقبل میں علاقائی طاقت کے توازن کومزید پیچیدہ بنا دے۔کیونکہ جوہری ٹیکنالوجی صرف ایک صنعتی شعبہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست میں ایک حساس طاقت کاعنصر بھی ہے۔ہربڑی سائنسی کامیابی اپنے ساتھ امکانات کی روشنی بھی لاتی ہے اورخطرات کا ایک خاموش سایہ بھی۔جوہری توانائی اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔
ایٹم کے اندرموجودقوت نے انسان کوتوانائی کے ایک نئے دورمیں داخل کیا۔اس نے طب،زراعت،صنعت اوربجلی کی پیداوارکے میدانوں میں انقلاب برپاکیالیکن اسی قوت نے انسان کویہ احساس بھی دلایاکہ بعض دریافتیں صرف ترقی کے دروازے نہیں کھولتیں بلکہ ذمہ داری کے نئے امتحانات بھی پیداکرتی ہیں۔امریکاسعودی جوہری تعاون کاسب سے پیچیدہ پہلویہی ہے کہ یہ ایک ایسے خطے میں سامنے آرہاہے جہاں پہلے ہی سلامتی کے خدشات،علاقائی رقابتیں اورطاقت کے عدم توازن موجودہیں۔
مشرقِ وسطی میں کوئی بھی حساس ٹیکنالوجی صرف ایک ملک کاداخلی معاملہ نہیں رہتی۔وہ فوری طورپرعلاقائی سیاست اورعالمی سلامتی کے مباحث کاحصہ بن جاتی ہے۔جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے بنیادی سوال ہمیشہ یہی رہاہے۔ایک پرامن ایٹمی پروگرام کہاں ختم ہوتاہے اورتزویراتی صلاحیت کاآغازکہاں سے ہوتاہے؟یہی وہ لکیرہے جس نے عالمی برادری کوہمیشہ محتاط رکھاہے۔(جاری ہے)