بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ ، مظاہرے ، ریلیاں

 مظاہرین نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پرشدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا
 اقوام متحدہ کے مبصر دفتر میں یادداشتیں پیش ، پختونخوا اسمبلی میں قرار داد منظور
لاہور ، اسلام آباد ، کراچی ، پشاور ، سرینگر (خصوصی رپورٹ) لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے 26 جنوری کو بھارت کے نام نہاد یومِ جمہوریہ کے خلاف یومِ سیاہ منایا۔ اس موقع پر اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں کشمیری عوام نے بھارتی تسلط، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حقِ خودارادیت کی پامالی کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔اسلام آباد میں حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یومِ سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں کشمیریوں اور ان سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ مناتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں سیاسی،سماجی مذہبی رہنماؤں کشمیری کمیونٹی کے نمائندگان،طلبا اور دیگرشہریوں سمیت بوائز سکاؤٹس کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔سیاہ جھنڈے اورپلے کارڈ زاٹھارکھے تھے جن پر جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے، ظلم وجبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔لاہور میں پیپلز پارٹی کی کشمیر بچاؤ ریلی کی تیاریوں کے سلسلے میں والٹن روڈ پر ریلی ہوئی ،شرکاکا والٹن روڈ پر پیکجز مال تک کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کیلئے مارچ کیا گیا۔پارٹی کارکنوں کے پارٹی ترانوں کی دھن پر نعرے اور دھمال ڈالی۔ ادھر بھارتی قابض انتظامیہ نے پورے مقبوضہ علاقے میں سخت پابندیاں نافذ کرتے ہوئے وادی کشمیر اور جموں خطے کے علاقوں کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔پورے مقبوضہ علاقے میں فوجی بنکرز اور چوکیاں قائم اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔سرینگر ،مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔مظاہرین نے اقوام متحدہ کے مبصر دفتر میں یادداشتیں پیش کیں۔آزاد کشمیر بھر کی طرح ضلع جہلم ویلی کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا،وادی لیپہ،چکار،چناری،چکوٹھی اور گردونواح میں ہندوستان کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایاگیا ،سب ڈویڑن سماہنی میں بھی بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، سول سوسائٹی اور سرکاری حکام نے ریلی نکالی اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں یومِ یکجہتی کشمیر سے متعلق قرارداد منظور کی گئی۔قرارداد میں کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں تشویشناک ہیں، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لے۔