حرمین سے عالمِ اسلام تک: ایک دفاعی عہد

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ایران اورترکیہ کی جانب سے معاہدے میں شمولیت کی خواہش اوردلچسپی اس امرکی علامت ہے کہ مسلم دنیامیں اجتماعی دفاعی خلاکاادراک بڑھ چکاہے۔ترکیہ کی شمولیت نیٹوتجربے اور دفاعی صنعت کی بدولت اتحادکوتکنیکی اورآپریشنل برتری دے سکتی ہے۔اس تناظرمیں یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ اوآئی سی کومحض سفارتی نہیں بلکہ عسکری ستون کی ضرورت ہے۔
معاہدے کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پربیرونی مسلح حملہ دونوں ریاستوں پرحملہ تصور ہوگا،جہاں یہ شق نیٹواتحاد کے آرٹیکل فائیوسے مشابہ ہے،وہاں اسلامی دنیاکے تناظرمیں اس کی معنویت کہیں زیادہ گہری ہے۔دہائیوں پرمحیط مشترکہ فوجی تربیت،کثیرالجہتی مشقیں اور دفاعی صنعتی تعاون اس معاہدے کی مضبوط بنیادہیں۔
یہ معاہدہ عملی طورپرنیٹوکے اجتماعی دفاعی تصورکی اسلامی تعبیرکیاسلامی تناظرمیں منطبق ہوتی ہے۔فرق یہ ہے کہ نیٹومغربی سیاسی ومعاشی مفادات کامحافظ ہے اوریہاں اسلامی دفاعی اتحادامت کے وجود،خودمختاری اورمقدسات کاتحفظ کامحافظ ہوسکتاہے۔یہ وہ خلاہے جسے یہ معاہدہ پرکرنے کی بنیادرکھتاہے۔یہ تقابل اس معاہدے کی معیاری قانونی حیثیت کو مضبوط کرتاہے۔تاریخی تجربہ بتاتاہے کہ نیٹویورپ کے اجتماعی دفاع کاضامن بنا،سیٹواورسینٹوامریکی مفادات کیلئے تشکیل دیے گئے۔پاک سعودی معاہدہ پہلی بارایک مسلم-مرکوز دفاعی تصورپیش کرتاہے جوخودمختاری،مقدسات اورامت کے اجتماعی مفادپرمبنی ہے۔
یہ دفاعی معاہدہ پاکستان اورسعودی عرب دونوں کیلئے سکیورٹی،معیشت اورسفارت کاری کے میدان میں غیرمعمولی فوائدکاحامل ہے۔اس کے تحت کسی ایک ملک کی دفاعی طاقت دوسرے ملک کے تحفظ کیلئے بھی موجودہوگییوں گویادونوں ممالک ایک دوسرے کی ڈھال بن گئے ہیں۔سکیورٹی،معیشت اورسفارت کاری کے باہمی ربط کومضبوط بنانے کیلئے مشترکہ دفاع،سرمایہ کاری کاتحفظ،توانائی راہداریوں کی سلامتی ،عالمی سفارت کاری کے باہمی انحصارکوبڑھاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ نیٹوممالک میں جنگ کم اورمعیشت مضبوط رہی ۔اس دفاعی معاہدہ کے پالیسی مضمرات کایہ بھی ایک نمایاں پہلوہے کہ مسلم ممالک کیلئیدفاعی خوداعتمادی کاماڈل بن سکتاہے،غزہ فلسطین اورکشمیرجیسے بحرانوں میں عملی ڈیٹرنس فراہم کرسکتاہے،عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں مسلم ریاستوں کاوزن بڑھاسکتاہے
یادرہے کہ الیمامہ پیلس میں ولی عہدمحمدبن سلمان نے وزیرِاعظم شہبازشریف کاپرتپاک استقبال کیا۔دونوں ممالک کے وفودکی موجودگی میں باضابطہ مذاکرات ہوئے،جن میں شاہ سلمان بن عبدالعزیزکیلئے نیک تمناؤں کااظہارکیاگیااورتاریخی واسٹریٹجک تعلقات کاجامع جائزہ لیاگیا۔ مشترکہ دلچسپی کے متعدداہم امورپرتفصیلی گفتگو ہوئی۔الیمامہ پیلس میں
ہونے والے مذاکرات نے واضح کیاکہ دونوں ممالک کااعتماد شخصیات سے بڑھ کراداروں تک پہنچ چکاہے۔مشترکہ مفادات اب تحریری معاہدوں میں محفوظ ہورہے ہیں اوراب تحریری اورقانونی ضمانتوں میں ڈھل رہے ہیں۔یہ پالیسی تسلسل کی علامت ہے۔
تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ دشمن قوتیں کبھی بھی مسلم ممالک کے دفاعی معاہدوں کوکامیاب ہوتاہوانہیں دیکھ سکتے اوراس ضمن میں یقینا مسلم ممالک کوبھی اہم چیلنجزاورخدشات کاسامنابھی ہے اورمسلم دنیاکو داخلی سیاسی اختلافات،عالمی طاقتوں کاممکنہ دبااوراتحاد کی ادارہ جاتی ہم آہنگی کیلئے ان چیلنجزسے نمٹنے کیلئے شفاف، قانونی اورتدریجی حکمت عملی بھی ناگزیرہے۔
اب ایران نے بھی اس دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہرکردی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمدباقرنے پاکستان کے دورے کے دوران کہاکہ اس معاہدے میں ایران کوبھی شامل کیاجاناچاہیے،اوراوآئی سی کونیٹوکی طرزپراسلامی ممالک کی مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکی پیشکش اس امرکی عکاسی کرتی ہے کہ مسلم دنیامیں دفاعی خلاکاشعوربڑھ رہاہے اوراوآئی سی کو عسکری ستون کی ضرورت ہے۔ایران کی شمولیت اتحادکو پان اسلامک سیکورٹی بلاک میں بدل سکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکی پیشکش اس حقیقت کااعتراف ہے کہ امت کوٹکڑوں میں بانٹ کرمحفوظ نہیں رکھاجاسکتااورمشترکہ دفاع اب ناگزیرہوچکاہے۔یہ تجویزاگر آگے بڑھی تواوآئی سی کوعسکری روح مل سکتی ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی دنیاکیلئے ایک اسٹریٹجک مثال،اجتماعی سلامتی کی سمت پہلاعملی قدم،مستقبل کے مسلم دفاعی اتحادکی بنیاد ہے ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ اتحادکوکثیرجہتی بنانے کیلئے مشترکہ عسکری مشقیں اورکمان اسٹرکچرتشکیل دیاجائے اوراو آئی سی کے تحت ایک دفاعی فریم ورک پرغورکیاجائے کیونکہ اجتماعی دفاع محض عسکری بندوبست نہیں بلکہ سیاسی خودمختاری،اخلاقی وقاراورعالمی توازن کاضامن ہوتاہے۔
ایرانی اسپیکر نے زوردیاکہ اسلامی ممالک،خصوصاپاکستان،فلسطینیوں کے تحفظ اورامدادکیلئے اپنی افواج غزہ بھیجیں،اورکوئی ایسااقدام نہ کیاجائے جواسرائیلی تسلط کومزید تقویت دے۔غزہ اورکشمیرمیں جاری  مظالم نے ثابت کیاکہ محض بیانات اورسفارتی مذمت ناکافی ہیں، اجتماعی دفاعی طاقت عسکری ڈیٹرنس ہی حقیقی ڈیٹرنس فراہم کرسکتی ہے جومظلوم کو بچاسکتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں اسلامی دفاعی اتحاد کی اخلاقی حیثیت پرکھی جائے گی اوریہ مسئلہ اسلامی دفاعی اتحادکی اخلاقی بنیادکومضبوط کرتاہے۔محمدباقرنے اس امرکااعتراف کیاکہ اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان نے جس طرح ایران کاساتھ دیا،وہ ایرانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ان کے مطابق پاکستان امتِ مسلمہ کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔پاکستان اورایران مشترکہ چیلنجزسے دوچارہیں جن کامقابلہ مل کرکیاجاسکتاہیجبکہ طب،توانائی اوربینکاری سمیت متعددشعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجودہیں۔
ایران کی جانب سے پاکستان کے کردارکااعتراف اس بات کاثبوت ہے کہ اب پاکستان توازن،عقل اورمزاحمت کی علامت بن چکاہے۔پاکستان خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپر بھی ایک مضبوط اورمتوازی طاقت کے طورپرتسلیم کیاجاچکاہے اور ایران اب خطے میں پاک سعودی دفاعی تعاون میں کثیر جہتی شراکت کا متمنی ہے۔
ایک اوراہم پیش رفت کے تحت ترکیے نے بھی پاک۔سعودی دفاعی اتحادمیں شمولیت کی خواہش ظاہرکردی ہے۔عالمی خبررساں ادارے بلوم برگ کے مطابق،پاکستان،ترکیے اورسعودی عرب پرمشتمل دفاعی اتحادمشرق وسطی ہی نہیں بلکہ اس سے آگے تک طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکتاہے۔ترکیہ جدیدعسکری ٹیکنالوجی،نیٹوتجربہ،جدیددفاعی صنعت، جغرافیائی رسائی واہمیت کے ساتھ اگراس اتحادمیں شامل ہوتاہے تومشرق وسطی،جنوبی ایشیااوربحیرہ روم میں طاقت کاتوازن یکسربدل سکتاہے۔ترکیے کی شمولیت طاقت کے توازن میں عالمی اسٹریٹجک وزن کے باعث تاریخی تبدیلی فراہم کرسکتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیٹواورسینٹوامریکی دفاع کیلئے تشکیل دیئے گئے،یورپ نے نیٹوکے ذریعے خودکومحفوظ کیاتویہ سوال  اب ناگزیرہوگیاہے کیااسلامی دنیاکو اپنے دفاع کاحق حاصل نہیں؟کیااسلامی دنیااپنے اجتماعی دفاع کی حقدارنہیں؟یہ معاہدہ اسی سوال کاعملی جواب ہے۔بلوم برگ کے مطابق،ترکیے کواس دفاعی اتحادمیں شامل کرنے کیلئے تینوں ممالک کے درمیان معاہدہ جلدطے پانے کاامکان ہے۔اگرایساہواتویہ اتحادمحض عسکری بلاک نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی خودداری،خودانحصاری اوردفاعی وحدت کی علامت بن جائے گا۔اگرپاکستان، سعودی عرب،ترکیہ اورایران ادارہ جاتی دفاع،مشترکہ کمان،مشترکہ مشقیں قائم کرلیتے ہیں تویہ اتحادجنگ روکنے کاذریعہ،امن قائم رکھنے کی قوت،امت کے وقارکی ضمانت بن سکتاہے اوریہ اتحادمستقبل کی سمت اسلامی مشترکہ دفاعی ڈھانچہ کی صورت میں نہ صرف امت مسلمہ کیلئے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی قابل قدرکرداراداکرنے کے قابل بنادے گا۔
یہ دفاعی اتحادمحض ریاستی مفادات کامعاہدہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہیکہ امت جب بیدارہوتی ہے توتاریخ کے رخ بدل دیتی ہے۔اگریہ اتحادبصیرت،اعتدال اوراصولی سیاست کے ساتھ آگے بڑھاتوبعیدنہیں کہ یہ اسلامی دنیاکیلئے ایک نئے مستحکم دورِاورخودمختاری کا پیش خیمہ ثابت ہو۔یادرکھیں قومیں ہتھیاروں سے نہیں،کرداراوراتحادسے زندہ رہتی ہیں۔
اسلامی دنیاکواب ردِعمل سے نکل کرپیش بندی مشترکہ دفاع،اسٹریٹجک اتحادکی طرف بڑھناہوگا۔یہ معاہدہ محض دوریاستوں کادفاعی بندوبست نہیں بلکہ اسلامی دنیاکیلئے اجتماعی سلامتی کی بنیاداورمستقبل کے مسلم سیکیورٹی آرکیٹکچرکاآغازہے۔یادرکھیں طاقت کاحقیقی سرچشمہ اسلحہ نہیں،بلکہ اتحاد،ادارہ سازی اورمشترکہ وژن ہے اوریہ معاہدہ آغاز ہے،انجام نہیں۔قومیں جب اپنی حفاظت کافیصلہ خودکرتی ہیں،توتاریخ ان کے فیصلے کی حفاظت کرتی ہے۔