ایک عہد،ایک قیادت،ایک فیصلہ

سمیع اللہ ملک(تیسری قسط)
آخرمیں، فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت کاوہ پہلو سامنے آتاہے جوانہیں دیگرعسکری وسیاسی رہنماں سے ممتازکرتاہیان کا واضح،دوٹوک اورفیصلہ کن انداز۔ٹرمپ جیسے رہنماکیلئے، جو ابہام سے زیادہ وضاحت کوترجیح دیتے ہیں،یہ خصوصیت غیرمعمولی کشش رکھتی ہے۔یہی وہ وصف ہے جوانہیں نہ صرف ایک مثرسپہ سالاربلکہ ایک کامیاب سفارت کاربھی بناتا ہے۔عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ محض الفاظ کامجموعہ نہیں ہوتابلکہ وہ پورے عہدکی ذہنی کیفیت اورریاستی ترجیحات کاآئینہ داربن جاتاہے۔ایساہی ایک لمحہ اس وقت سامنے آیاجب امریکامیں ایک نشست کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیرسے پاکستان کولاحق خطراتبالخصوص اس کے ممکنہ عدم استحکام یاٹوٹنے کے خدشاتکے بارے میں سوال کیاگیا۔
یہ سوال اپنی نوعیت میں محض ایک تجزیاتی استفسارنہ تھابلکہ اس کے پس منظرمیں وہ تمام اندیشے کارفرماتھیجو برسوں سے عالمی تھنک ٹینکس اورپالیسی سازحلقوں میں زیرِبحث رہے ہیں۔ایک ایسے خطے میں جہاں جغرافیائی کشیدگی،داخلی سیاسی اتارچڑھا،اور اقتصادی دبابیک وقت موجودہوں،وہاں کسی بھی ریاست کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھاناغیر معمولی امرنہیں سمجھاجاتا۔مگراس سوال کے جواب میں فیلڈ مارشل عاصم منیرکاردِ عمل فوری،واضح اورغیرمبہم تھا۔انہوں نے نہایت دوٹوک اندازمیں کہا:
میں کبھی بھی اس دنیاکوپاکستان کے بغیرنہیں دیکھ رہا۔
یہ جملہ محض ایک دفاعی مقف نہیں بلکہ ایک فکری اعلان تھاایک ایسااعلان جوریاستی خوداعتمادی،قومی بقاکے عزم،اورتاریخی تسلسل کی یقین دہانی کامظہرہے۔تاہم اسی جواب کے ایک اورپہلونے عالمی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی،جب انہوں نے یہ عندیہ دیاکہ اگر خدانخواستہ پاکستان کے وجودکوکوئی سنگین خطرہ لاحق ہواتووہ اس کے دفاع کیلئے ہرممکن صلاحیت رکھتے ہیںحتی کہ ایسی صلاحیت بھی جوعالمی سطح پرتباہ کن اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ پاکستان کی قیادت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں الفاظ بھی ہتھیارکی ماننداثررکھتے ہیںاور بعض اوقات ایک جملہ پوری جنگ کوروکنے کی صلاحیت رکھتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکایہ بیان بھی شایداسی نوعیت کاہیایک ایساجملہ جوبظاہرسخت،مگردرحقیقت امن کی ایک پیچیدہ مگرمثرضمانت ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے تناظرمیں اس بیان کومحض جذباتی اظہارکے طورپرنہیں دیکھاجاسکتا۔یہ درحقیقت اس نظریے کی توسیع ہیجسے ڈیٹرنس کہاجاتاہیڈیٹرنس ایک ایسااصول جس کے تحت طاقت کااظہار اس لیے کیاجاتاہے تاکہ جنگ کوروکاجاسکے،نہ کہ اسے چھیڑا جائے۔
پاکستان،ایک ایٹمی قوت ہونے کے ناطے،پہلے ہی اس نظریے کاحامل رہاہے۔مگراس موقع پرفیلڈ مارشل عاصم منیرکابیان اس بات کی تجدیدتھاکہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی محض جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدودنہیں بلکہ اس کے وجودی تحفظ تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ وہی تصورہے جوسرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کے درمیان کارفرمارہاجہاں تباہی کی صلاحیت ہی دراصل امن کی ضمانت بن گئی تھی۔
یہ بیان جہاں ایک طرف عسکری عزم کااظہارہے،وہیں دوسری طرف سفارتی پیغام بھی اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ایک جانب یہ پاکستان کے مخالفین کیلئے ایک واضح تنبیہ ہے کہ ریاست کی بقاپرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا،تودوسری جانب یہ اتحادیوں اورعالمی برادری کیلئے ایک یقین دہانی بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے معاملے میں سنجیدہ،خود مختار اور فیصلہ کن ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں عسکری قیادت اورسفارتی حکمت عملی ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتی ہیںاوریہی وہ طرزِفکر ہے جوجدید ریاستی قیادت کی پہچان بنتاجارہا ہے۔
بین الاقوامی حلقوں میں اس بیان کومختلف زاویوں سے دیکھاگیا۔کچھ مبصرین نے اسے ایک سخت اورغیر معمولی اظہارقراردیا،جبکہ دیگرنے اسے ایک ذمہ دارایٹمی ریاست کے اس عزم کے طورپرتعبیرکیاجواپنے وجودکے تحفظ کیلئے کسی بھی حدتک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے مگراس کامقصدتصادم نہیں بلکہ اس کاسدِ باب ہے۔یہی تضاددراصل جدیدعالمی سیاست کی حقیقت ہے،جہاں طاقت اورامن بظاہرمتضادمگردرحقیقت ایک دوسرے کے تکمیلی عناصربن چکے ہیں۔
اگراس بیان کوپاکستان کی تاریخ کے آئینے میں دیکھاجائے تویہ کسی اچانک ردِعمل کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل فکری اورعملی تسلسل کاحصہ ہے۔قیامِ پاکستان سے لے کرآج تک، اس ریاست نے بارہاایسے چیلنجزکاسامناکیاہے جہاں اس کی بقاہی داؤپرلگی محسوس ہوئی۔ ایسے ہرموقع پرریاستی قیادت نے ایک واضح پیغام دیاکہ پاکستان محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی حقیقت ہے اور نظریات کومحض طاقت سے مٹایانہیں جاسکتا۔عاصم منیرکا یہ بیان بظاہرایک مختصرجواب تھا،مگراپنے اندر کئی جہتیں سموئے ہوئے ہے۔یہ ایک ریاستی عزم کااظہارہے،ایک عسکری حکمتِ عملی کاتسلسل ہے اورایک سفارتی پیغام کا جامع خلاصہ ہے۔یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتاہے کہ جدیددنیامیں بقاکاانحصار صرف طاقت پرنہیں بلکہ اس کے دانشمندانہ استعمال پرہے۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہوچکی ہے ،ایساباب جہاں جنگ اورامن، دونوں کے درمیان ایک باریک مگر مضبوط لکیرکھینچی جارہی ہے۔فیلڈمارشل عاصم منیر
کی قیادت میں پاکستان نے یہ ثابت کیاہے کہ جدیددنیامیں اصل طاقت صرف اسلحے کی نہیں بلکہ بصیرت،توازن اوراعتمادکی ہوتی ہے۔یہ وہ سفرہے جومحض ایک فردکی کامیابی نہیں بلکہ ایک ریاست کے فکری ارتقا کی داستان ہیاورشایدآنے والے وقت میں یہی داستان عالمی سیاست کیدھارے کوایک نئی سمت دے گی۔
تاریخ کا دھاراہمیشہ سیدھانہیں بہتا؛اس میں موڑآتے ہیں،بھنور آتے ہیں،اورکبھی کبھی ایسے پل اورموڑبھی آتے ہیں جہاں سے گزرکر قومیں اپنی تقدیرازسرِنولکھتی ہیں۔یوں فیلڈ مارشل عاصم منیرکاسفرمحض ایک عسکری افسرکے عروج کی داستان نہیں بلکہ ایک عہد کی تشکیل کی کہانی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیرکاعروج بھی اسی نوع کاایک موڑاورپل معلوم ہوتا ہے ،ایک ایساپل جس پرکھڑے ہوکر پاکستان نے نہ صرف اپنے داخلی انتشارکوقابوکرنے کی کوشش کی بلکہ عالمی سیاست میں بھی اپنی موجودگی کااحساس دلاتے ہوئے خارجی خطرات کامقابلہ کیا،اورعالمی سطح پرپاکستان کی موجودگی کومؤثر اندازمیں اجاگرکیا۔
یہ داستان ابھی مکمل نہیںیہ تومحض آغازہے۔آنے والے دنوں میں تاریخ کے اوراق مزیدکھلیں گے،اوروقت فیصلہ کرے گاکہ یہ باب کس مقام پرجاکرٹھہرتاہے۔مگرفی الحال اتنا کہناکافی ہے کہ ایک نام تاریخ کے سینے پرثبت ہوچکاہیایسانام جوحالات کااسیرنہیں بلکہ ان کامعماربن کرابھراہے۔یہ کہناقبل ازوقت ہوگاکہ یہ سفرکہاں جاکررکے گا،مگر اتناضرور کہاجاسکتاہے کہ تاریخ کے اس باب میں ایک نام روشن حروف سے درج ہ چکا ہیایک ایسانام جوحالات کااسیر نہیں بلکہ ان کامعمار بن کرابھراہے۔
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں عسکری قوت اورسفارتی حکمت، دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم بن چکے ہیں۔طاقت کااظہاراب صرف میدانِ جنگ تک محدودنہیں رہابلکہ مذاکرات کی میز پربھی اقوام کی تقدیرلکھی جارہی ہے۔ اسی تناظرمیں پاکستان،جوکبھی محض ایک علاقائی قوت سمجھاجاتاتھا،اب ایک ذمہ داراورفعال عالمی کردارکے طورپرابھرتادکھائی دیتا ہے اوراس ارتقاکے پس منظرمیں فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت ایک مرکزی حیثیت اختیارکرچکی ہے۔
تاریخ کے صفحات پرایسے کردار کم ہی ملتے ہیں جوبیک وقت سپاہی بھی ہوں،مدبربھی،اورسفارتکاربھی۔عاصم منیرکی شخصیت اسی نادرامتزاج کی عکاس ہے۔اگرآنے والے دنوں
میں پاکستان اپنی داخلی استحکام اورخارجی وقارکوبرقراررکھنے میں کامیاب ہوتاہے،تواس میں اس قیادت کاکردارایک سنگِ میل کے طورپریادرکھاجائے گا۔تاہم یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی ،یہ تومحض ایک باب ہے،جس کے بعدتاریخ کے اوربھی اوراق کھلنے باقی ہیں۔