ایک عہد،ایک قیادت،ایک فیصلہ

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اس جنگ کے بعدعاصم منیرکوفیلڈ مارشل کے عہدے پرترقی دی گئی۔یہ اعزازپاکستان کی تاریخ میں نہایت کم شخصیات کوملاہے،اور اس کامطلب صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی اعتمادکااظہاربھی ہے۔یہ اعزازپاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتا ہے۔امریکی صدرکی جانب سے جنگ بندی کادعوی اورپاکستان کی جانب سے اس کی تائید،ایک نئی سفارتی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں عسکری حکمتِ عملی سفارتی مہارت میں ڈھلتی نظرآتی ہے۔
عالمی سطح پراس جنگ نے پاکستان کی عسکری صلاحیت کوایک نئی پہچان دی۔دفاعی ماہرین نے اس بات کااعتراف کیاکہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کادفاع کرسکتاہے بلکہ جدید جنگی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔اس جنگ کے بعدپاکستان کی عسکری صلاحیت کوعالمی سطح پرتسلیم کیاگیا۔یہ ایک ایسالمحہ تھاجب ریاست نے اپنی موجودگی کابھرپوراحساس دلایا۔عاصم منیرکی شخصیت میں اس دوران ایک نمایاں تبدیلی بھی محسوس کی گئی۔جوابتدامیں خاموش اورمحتاط دکھائی دیتے تھے،وہ اب پراعتماداو واضح مقف رکھنے والے رہنماکے طور پر سامنے آئے۔
اس کے ساتھ ہی بھارت کے اندرسیاسی دباؤمیں اضافہ ہوا۔مودی کوشدید تنقیدکاسامناکرناپڑا،اوران کی خارجہ پالیسی پرسوالات اٹھنے لگے۔واشنگٹن کے دوروں میں یہ فرق نمایاں تھا۔پہلی ملاقات میں جواحتیاط تھی،دوسری میں وہی شخصیت ایک پختہ سفارتکارکے روپ میں دکھائی دی۔یہ تبدیلی محض ذاتی نہیں بلکہ حالات کی پیداوارتھی۔جنگیں انسانوں کوبدل دیتی ہیں،اورقیادت کونکھاردیتی ہیں۔بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورایران کے خلاف مبینہ کردارنے خطے میں نئی کشیدگی کوجنم دیا۔اس تناظرمیں بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورایران کے خلاف مبینہ کردارنے خطے میں ایک نئی کشیدگی کوجنم دیا۔یہ واقعات عالمی سیاست کے پیچیدہ روابط کی عکاسی کرتے ہیں،جہاں مفادات اصولوں پرغالب آجاتے ہیں۔یہ واقعات عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کوظاہرکرتے ہیں۔
پاکستان نے اس صورتحال میں ایک متوازن پالیسی اپناتے ہوئے خودکوایک ذمہ دارریاست کیطورپرپیش کیا۔یہی وہ مقام تھاجہاں عسکری قیادت نے سفارتی کرداربھی ادا کرنا شروع کیا۔ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق عاصم منیرایک کم گومگرعمل پریقین رکھنے والے فردہیں۔وہ شورنہیں مچاتے،بلکہ نتائج سے بات کرتے ہیںاوریہی اندازانہیں منفرد بناتا ہے۔
واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں نے عاصم منیرکوعالمی سطح پرمتعارف کروایا۔ابتدا میں ان کی شخصیت محتاط اورکم گوسمجھی جاتی تھی،مگروقت کے ساتھ ساتھ ان میں ایک غیرمعمولی اعتماد
پیداہوا۔عاصم منیرکے دورہ امریکانے ان کی شخصیت کوعالمی سطح پر متعارف کروایا۔ابتدامیں محتاط اندازرکھنے والے یہ رہنمااب ایک پراعتماد سفارتکارکے طورپرسامنے آئے۔ان کی عالمی سرگرمیاں بھی قابلِ ذکرہیں۔چین،سعودی عرب،اورایران کے دورے اس بات کاثبوت ہیں کہ وہ محض عسکری نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی فعال کرداراداکررہے ہیں۔
جون2025کے دورے میں ان کی شخصیت ایک پختہ سفارتکارکے طورپرسامنے آئی ۔امریکی حلقوں میں ان کے بارے میں مثبت تاثرات نے پاکستان کیلئے ایک نئی راہ ہموارکی اوران کااعتماداورطرزِگفتگوعالمی حلقوں کومتاثرکرنے میں کامیاب رہا۔یہ ایک نئی سفارتی جہت کاآغازتھا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ان کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ موجودہ دورمیں عسکری اورسفارتی دائرے ایک دوسرے سے جدانہیں رہے۔
ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش ایک اہم سفارتی قدم تھا۔دنیااس وقت تباہی کے دہانے پرکھڑی مضطرب ہے اوراس نازک وقت میں ثالثی کی پیشکش،دراصل ایک دوراندیشی کامظہرتھی،جس نیپاکستان کیکردارکومزیدمضبوط کیا۔ یہ پیشکش دراصل اس وژن کااظہارتھی جس کے تحت پاکستان خودکوایک پل کے طورپرپیش کرنا چاہتاہے،نہ کہ محض ایک فریق کے طورپر۔یہ قدم اس بات کاغمازہے کہ پاکستان خودکوایک ذمہ دارعالمی کردارکے طورپرپیش کرناچاہتاہے۔جون2025میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات نے اس سفرکوایک نئی سفارتی جہت اورعسکری بلندی عطاکی۔عالمی میڈیانے اسے غیرمعمولی قراردیا،اوریوں عاصم منیرعالمی سیاست کے ایک اہم کردارکے طور پرتسلیم کیے گئے۔
وائٹ ہاس کی رسمی ملاقات کے بعد،امریکی دارالحکومت میں پاکستانی سفارتخانے کی ایک نشست محض ضیافت نہ تھی بلکہ ایک فکری مجلس کارنگ لیے ہوئے تھی۔اس نشست میں امریکی ماہرینِ خارجہ پالیسی کی موجودگی نے اسے ایک غیررسمی تھنک ٹینک میں تبدیل کردیا۔یہاں فیلڈ مارشل عاصم منیرکایہ جملہ گویاایک اصولی اعلان تھا:
سفارتکاری ہی کشیدگی کم کرنے کامثرراستہ ہے،اورپاکستان اس میں معاونت کرسکتاہے۔
یہ بیان نہ صرف ایک سفارتی عزم کی ترجمانی کرتاہے بلکہ اس امرکی بھی غمازی کرتاہے کہ پاکستان اب محض ردِعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ عالمی بحرانوں میں پیش قدمی کرنے والا کرداربن چکاہے۔
ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی کے دوران،جہاں وزیراعظم اوروزیر خارجہ سفارتی محاذپرمتحرک تھے،وہیں فیلڈمارشل عاصم منیر کی خاموش مگرمثرسفارت کاری بھی جاری رہی۔ وائٹ ہاس کے ایک عہدیدارکی جانب سے ان رابطوں کی تصدیق اس امرکاثبوت ہے کہ پاکستان کاعسکری وسفارتی اشتراک ایک ہم آہنگ حکمتِ عملی کے تحت کام کررہاہے۔یہ وہی طرزِعمل ہے جسے عالمی سیاست میں ٹریک ٹوڈپلومیسی کہاجاتاہے،جہاں رسمی اورغیررسمی روابط ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
11/اپریل کواسلام آبادمیں ہونے والے ایران-امریکامذاکرات نے پاکستان کے جغرافیائی اورسفارتی مقام کوایک نئی جہت عطا کی۔یہ حقیقت کہ ان مذاکرات میں وزیر اعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیر دونوں شریک تھے،اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں ریاستی ادارے ایک مشترکہ قومی بیانیے کے تحت کام کررہے ہیں۔اگرچہ یہ مذاکرات فوری نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے،مگریہ اس طویل سفارتی سفرکاپہلا سنگِ میل ضرورتھے جس میں تسلسل کوکامیابی کی کنجی سمجھاجاتاہے۔
ٹرمپ کایہ اعتراف کہ ایران-امریکاجنگ بندی پاکستان کی درخواست پرممکن ہوئی،بظاہر ایک سفارتی کامیابی سے کہیں بڑھ کرہے۔یہ اس امرکااعلان ہے کہ پاکستان اب عالمی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتمادثالث کے طورپرتسلیم کیاجارہاہے۔اگرچہ مذاکرات کااگلا دورپاکستان میں نہ ہونے کافیصلہ کیاگیا،مگراسلام آبادکی شمولیت کابرقراررہنااس کے کردارکی اہمیت کومزیدمستحکم کرتاہے۔
یہ سوال بجاطورپراٹھتاہے کہ آخر کیوں ایران اورامریکاجیسے متحارب ممالک ایک ہی شخصیت کوثالث کے طورپرقبول کرتے ہیں؟اس کاجواب پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی میں مضمرہے۔ایران،خلیجی ممالک،چین اورامریکاسب کے ساتھ متوازن تعلقات نے پاکستان کوایک ایساپل بنادیاہے جومتضادمفادات کوجوڑنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت ایک ریاستی حکمتِ عملی کی صورت اختیارکرلیتی ہے۔پاکستان نے اپنے اتحادیوںسعودی عرب،چین اورامریکاکی سلامتی ترجیحات کوایک متوازن اندازمیں آگے بڑھاکرخودکوایک ذمہ دار شراکت دارکے طورپرمنوایاہے۔یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک باریک بین توازن ہے،جہاں ہرقدم ناپ تول کر رکھا جاتاہے تاکہ کسی ایک فریق کی حمایت دوسرے کیلئے تشویش کاباعث نہ بنے۔
فیلڈمارشل عاصم منیرکی کامیاب ثالثی کاایک اہم سبب ان کے دیرینہ انٹیلی جنس روابط ہیں۔2016میں ملٹری انٹیلیجنس اوربعد ازاں آئی ایس آئی کی قیادت کے دوران ایران کے ساتھ قائم ہونے والے روابط نیانہیں ایک ایسااعتمادفراہم کیاجومحض رسمی سفارت کاری سے حاصل نہیں کیاجاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ ایران اورامریکادونوں انہیں ایک ایسے فردکے طور پردیکھتے ہیں جونہ صرف ان کی پوزیشن کو سمجھتاہے بلکہ اسے دوسرے فریق تک مثراندازمیں پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔
ٹرمپ کاغیر روایتی طرزِسیاست کسی سے ڈھکاچھپانہیں۔ان کے نزدیک تعلقات عہدوں سے زیادہ شخصیات کے گردگھومتے ہیں۔اسی تناظرمیں فیلڈ مارشل عاصم منیرکے ساتھ ان
کی قربت ایک نئی سفارتی حقیقت کوجنم دیتی ہے،جہاں رسمی پروٹوکول سے ہٹ کرذاتی اعتمادکوفوقیت دی جاتی ہے۔یہ وہ عنصرہے جوجدید عالمی سیاست میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکاہے۔جب دیگرممکنہ ثالثترکی،سعودی عرب،چین،روس مختلف وجوہات کی بناپراس کردارسے پیچھے ہٹ جاتے ہیں،توپاکستان ایک واحدقابلِ عمل آپشن کے طورپرسامنے آتاہے۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سفارتی حکمتِ عملی کانتیجہ ہے،جس میں پاکستان نیاپنے آپ کوہرفریق کیلئے قابلِ قبول رکھا۔(جاری ہے)