ایک عہد،ایک قیادت،ایک فیصلہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
پاکستان کی سیاسی وعسکری تاریخ کے افق پربعض ادوارایسے طلوع ہوتے ہیں جومحض واقعات کامجموعہ نہیں ہوتے بلکہ ایک عہد کی فکری وتہذیبی تشکیل کاپیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ محض واقعات کی قطارنہیں ہوتی،بلکہ وہ ایک زندہ شعورہے جوقوموں کے عروج وزوال،ان کے فکری سانچوں،اورقیادت کی بصیرت کواپنے دامن میں سمیٹ کرآگے بڑھتی ہے۔بعض اوقات زمانہ ایسے افرادکو جنم دیتاہے جومحض حالات کے تابع نہیں ہوتے،جونہ صرف حالات کواپنی بصیرت سے نئی جہت عطاکرتے ہیں بلکہ محض عہدوں کی بلندی سے نہیں بلکہ حالات کی دھارکوموڑدینے کی صلاحیت سے پہچانیجاتیہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب تاریخ اپنے معمول کے بہاسے ہٹ کرایک نئے دھارے کی صورت اختیارکرلیتی ہے،اورافراداپنے کردارکے ذریعے عہدکی سمت متعین کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جووقت کے طوفانوں میں چراغ کی مانندجلتے ہیں اورتاریخ کے اندھیروں میں سمت کا تعین کرتے ہیں۔پاکستان کی حالیہ سیاسی وعسکری تاریخ میں فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت اسی نوع کی ایک علامت کے طورپرابھری ہے۔
یہ داستان صرف ایک سپہ سالارکے عروج کی نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی ہے جس میں داخلی انتشار،خارجی دبا،اورعالمی سیاست کے پیچیدہ دھارے ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیںاورانہی تصادمات کے بیچ ایک قیادت اپنے کردارکومنواتی ہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت بھی اسی نوع کی ایک مثال کے طورپرسامنے آئی ہیایک ایسی مثال جس میں عسکری وقار،سیاسی بصیرت، اورعالمی سفارت کاری کانادرامتزاج دکھائی دیتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکاعروج بھی اسی نوع کاایک ایساتاریخی مظہرہے جس میں داخلی بحران ، عسکری استقامت،سفارتی مہارت اورعالمی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے ایک دوسرے میں پیوست ہوکرایک نئی کہانی رقم کرتے ہیں۔
نومبر2022میں جب عاصم منیرنے پاک فوج کی کمان سنبھالی،توپاکستان ایک ہمہ گیرسیاسی بحران اوراضطراب کی گرفت میں مبتلاتھا۔ تحریکِ عدم اعتمادکے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کاخاتمہ ہوچکاتھا،اورملک ایک ایسی کشمکش کاشکارتھاجس میں ریاستی اداروں کی ساکھ،سیاسی بیانیے اورعوامی اعتمادسبھی آزمائش میں تھے۔تحریکِ عدم اعتمادکے نتیجے میں عمران خان کی رخصتی نے سیاسی منظرنامے کودھندلادیاتھا۔یوں محسوس ہوتاتھاجیسے ریاستی کشتی بے یقینی کے گرداب میں ہچکولے کھارہی ہو،اورہرسمت سے اٹھنے والی لہریں اس کے توازن کوچیلنج کررہی ہوں۔یہ وہ لمحہ تھاجسے تاریخ ابتلائے قیادتسے تعبیرکرتی ہیجہاں منصب اعزازنہیں بلکہ ذمہ داری کابوجھ بن جاتاہے۔ایسے میں جب عاصم منیرکوفوج کی کمان سونپی گئی توگویاان کے ہاتھوں میں ایک ایسے جہازکی باگ ڈوردی گئی جوطوفانی سمندرمیں راستہ تلاش کررہاتھا۔
عمران خان کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نیسیاسی فضاکوگرمادیا۔ملک کے طول وعرض میں احتجاج کی صدائیں گونج رہی تھیں۔سڑکیں نعروں سے آباداوردل شکوک سے بھرگئے۔عمران کے حامی سڑکوں پرتھے اورالزامات کی بوچھاڑبراہِ راست فوجی قیادت پرہورہی تھی۔براہِ راست الزامات نے اس کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔یہ وہ مرحلہ تھاجب الفاظ تلواروں کا کام دے رہے تھے اوربیانیے میدانِ جنگ بن چکے تھے۔یہ صرف سیاسی اختلاف نہ تھابلکہ بیانیے کی ایسی جنگ تھی جس میں ہرفریق اپنی سچائی کاعلم اٹھائے کھڑاتھا۔اس پس منظرمیں فوجی قیادت پرلگنے والے الزامات نے ایک نئی کشیدگی کوجنم دیا،جس نے ریاستی اداروں کے درمیان اعتمادکی فضاکومتاثرکیا۔
فوج اورحکومت کی جانب سے الزامات کی مسلسل تردیدکی گئی،مگرفضامیں شکوک وشبہات کے بادل بدستورمنڈلاتے رہے۔فوج اور حکومت کی جانب سے ان الزامات کی مسلسل تردیدکی گئی جوسوشل میڈیااورجلسوں کے ذریعے پھیل رہاتھا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب اعتمادکارشتہ متزلزل اورکمزورپڑجائے تووضاحتیں اسے بحال کرنے سے قاصراوراکثربے اثر ہوجاتی ہیں۔یہی وہ مرحلہ تھاجہاں ریاستی بیانیہ جذبات کی آندھی میں غوطیلگارہاتھااوردلیل کی آوازمدھم ہوتی چلی گئی اوعوامی تاثرایک دوسرے سے متصادم دکھائی دینے لگا۔
نومئی کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ہنگامہ خیزباب اورسنگِ میل ثابت ہوئے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک گہراشگاف ڈال دیا۔عمران کی گرفتاری کے بعدملک بھرمیں ہونے والے پرتشددمظاہروں نے ریاستی نظم کوہلاکررکھ دیا۔راولپنڈی میں جی ایچ کیوسمیت کئی حساس تنصیبات کونشانہ بنایاگیا۔عسکری تنصیبات پرحملے دراصل ایک علامتی بغاوت کی شکل اختیارکرگئے۔یہ وہ دن تھاجب احتجاج اوربغاوت کے درمیان لکیردھندلاگئی۔
ان واقعات کیبعدمقدمات کاایک سلسلہ شروع ہوا،جس میں سینکڑوں افرادنامزدہوئے۔ریاست نے سخت قانونی کارروائی کاآغازکیا، عمران اوران کی جماعت نے اسے انتقامی کارروائی قراردیاجبکہ ریاست نے اسے قانون کی عملداری کاتقاضابتایا۔یوں بیانیے کی جنگ مزیدگہری ہوگئی،اورسیاسی تقسیم واضح ترہوتی گئی۔یہی وہ موڑتھاجہاں سے سیاسی تحریک کی رفتارمدھم پڑتی دکھائی دی۔ اس کشمکش نے سیاسی فضاکومزیدپیچیدہ بنادیا۔
نومئی کیواقعات نیدرحقیقت سیاسی تحریک کی رفتارکومتاثرکیا۔جوتحریک ایک عوامی لہرکے طورپرابھری تھی،وہ رفتہ رفتہ اپنی توانائی کھونے لگی۔یوں محسوس ہوتاتھاجیسے تاریخ نے ایک
موڑلے لیاہواورسیاسی قوتوں کواس بحرانی موڑپر ازسرِنوصف بندی اورحکمت عملی پرنظرثانی کرناپڑی۔فروری2024کے انتخابات نے ایک نئی سیاسی ترتیب کوجنم دیا۔مسلم لیگ( ن )اوراس کیاتحادیوں کی حکومت قائم ہوئی،اوریوں سیاسی بساط پرمہرے ازسرِنوترتیب دیے گئے۔یوں اقتدارکاتوازن ایک نئی سمت میں منتقل ہوا۔یہ تبدیلی محض سیاسی نہ تھی بلکہ اس کے اثرات ریاستی پالیسیوں پربھی مرتب ہوئے۔مگراصل تبدیلی مئی2025کی پاک بھارت جنگ کے بعدآئی،جب عاصم منیرنہ صرف عسکری قیادت کے استعارے کے طورپرابھرے بلکہ انہیں فیلڈمارشل کے خطاب سے بھی نوازاگیا۔یہ اعزازمحض ایک منصب نہیں بلکہ ایک عہدکی علامت بن گیا۔
مئی2025میں پاک بھارت جنگ نے خطے کوجہاں ہلاکررکھ دیاوہاں ایک غیرمتوقع مگرفیصلہ کن موڑفراہم کیا۔چاردنوں پرمحیط اس جنگ نے نہ صرف عسکری طاقت کامظاہرہ کیابلکہ نفسیاتی سطح پربھی ایک نئی فضاپیداکی۔اس جنگ میں جدیدٹیکنالوجی،ڈرونز،اور میزائلوں کااستعمال ہوا،جس نے اسے روایتی جنگوں سے مختلف بنادیا۔پاکستان کی جانب سے جدیدجنگی حکمتِ عملی کا استعمال عالمی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا۔اس جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کاچرچاعالمی سطح پرہوا۔حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ امریکاکو مداخلت کرنی پڑی۔ابتدامیں غیرجانبداری کااعلان کرنے والاعالمی طاقت کامرکز،آخرکارجنگ بندی کی اپیل پرمجبورہوا۔

پاکستانی دعوں کے مطابق انڈیاکے جدیدرافیل طیاروں کی تباہی نے جنگ کارخ بدل دیااورعالمی میڈیامیں مضبوط شواہدکے اعتراف نے پہلی مرتبہ اقوام علم کوششدرکرکے رکھ دیا اورعسکری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طورپردیکھاگیا۔یہ واقعہ محض عسکری کامیابی نہ تھابلکہ اس نے عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کوچونکادیا۔یوں محسوس ہواکہ طاقت کاتوازن یکسرتبدیل ہورہاہے۔یہاں تاریخ کاایک دلچسپ پہلوسامنے آتاہے کہ طاقت کے توازن میں معمولی سی تبدیلی بھی عالمی بیانیے کوبدل دیتی ہے۔جوکل تک تماشائی تھا،آج ثالث بننے پرمجبورہوجاتاہے۔
عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ جنگ نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی سطح پربھی ایک فیصلہ کن موڑتھی۔اس نے پاکستان کے اندر اعتمادکوبحال کیااوربیرونی دنیاکوایک واضح پیغام دیاکہ یہ ریاست ابھی زندہ ہے،متحرک ہے،اوراپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ابتدامیں عالمی طاقتوں نے اس جنگ کوعلاقائی تنازع سمجھ کرنظراندازکیا،مگرجیسے جیسے حالات نے شدت اختیارکی،امریکاکو مداخلت کرناپڑی۔گویاٹرمپ کی جنگ بندی کی اپیل اس حقیقت کا ظہارتھاکہ علاقائی تنازعات بھی عالمی سیاست کومتاثرکرتے ہیں۔یہ تبدیلی عالمی سیاست کے اس اصول کی عکاس ہے کہ طاقت کااظہارسفارت کاری کوجنم دیتاہے۔جب میدانِ جنگ میں توازن بگڑتاہے تو مذاکرات کی میزخودبخود سج جاتی ہے۔اسی جنگ کے بعدعاصم منیرکوپانچ ستارہ جنرل کے عہدے پرترقی دی گئی۔یہ ترقی دراصل ان کی قیادت پرمہرِتصدیق تھی،جومیدانِ عمل میں اپنی اہلیت ثابت کرچکی تھی۔(جاری ہے)