ارض حرمین کا امن اور علاقائی فتنے !

ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر 
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں  جب بھی باطل نے حق کے چراغ گل کرنے اور ان خطوں کو اپنی مہم جوئی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جو امن وامان کا گہوارہ ہیں تو ، مشیتِ ایزدی نے ہمیشہ ان خطوں کو سربلند رکھا جو انسانیت کے لیے امن اور ہدایت کا گہوارہ رہے ہیں۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پر بارود کے مہیب بادل چھائے ہوئے ہیں اور اسرائیل و امریکہ کی مشترکہ جارحیت نے خطے کی مٹی کو معصوموں کے لہو سے رنگین کر دیا ہے، تو ایسے میں امتِ مسلمہ کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔ مگر افسوس کہ کچھ طاقتوں کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی نے اس اتحاد کے شیرازے کو بکھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس پْر آشوب دور میں مملکتِ سعودی عرب کا کردار ایک ایسے تناور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں توحید کی زمین میں پیوست ہیں اور جس کا سایہ پوری دنیا کے درماندہ مسلمانوں کے لیے جائے پناہ اور امید کا مرکز ہے۔سعودی عرب محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ کرہ ارض پر موجود ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں مکہ مکرمہ کی صورت میں کعبتہ اللہ کی تجلیات موجود ہیں اور مدینہ منورہ کی صورت میں گنبدِ خضریٰ کی ٹھنڈک مسلمانوں کے جگر کو قرار بخشتی ہے۔ حرمین شریفین کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر آنچ آنے کا تصور بھی ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سعودی عرب پر کوئی حملہ ہوتا ہے یا اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے تو درحقیقت وہ حملہ صرف ایک ملک پر نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے قلب پر ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ "خادمِ حرمین شریفین" کے منصب کی لاج رکھتے ہوئے دنیا بھر میں امن، رواداری اور بھائی چارے کا وہ آفاقی پیغام عام کیا ہے جو اسلام کی اصل روح ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی ہر پکار اعتدال پسندی کی عکاس ہوتی ہے اور اس سرزمین نے ہمیشہ امت کو جوڑنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ لیکن تاریخ کا یہ کیسا المیہ ہے کہ اس امن پسند اور مقدس سرزمین کو ایران، کی جانب سے اشتعال انگیزی اور بلاجواز عداوت کا سامنا ہے۔جہاں تک ایران امریکہ تنازع کا تعلق ہے سعودی عرب نے کھلے لفظوں میں ایران کی حمایت کی ہے اس کے جواب میں ایران کی جانب سے سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات، شہری آبادیوں، تیل کی ریفائنری ، پانی کے ذخائر اور معاشی مراکز پر کیے جانے والے حملے، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا ان کی حمایت یافتہ پراکسیز کے ذریعے، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تو ہیں ہی، لیکن یہ اسلامی بھائی چارے کے تصور پر بھی ایک کاری ضرب ہیں۔ جب دشمن سرحدوں پر دستک دے رہا ہو، جب صیہونی ریاست وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ کر رہی ہو، اس وقت ایران کا سعودی عرب جیسے اہم اسلامی ملک کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ ایران امریکہ پر حملہ کرنے کے نام پر سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک پر حملہ آور ہوچکا ہے حالانکہ سعودی عرب بارہا دفعہ اس امر کا اظہار کرچکا ہے کہ اس کی زمین اور فضا ایران پر حملوں میں استعمال نہیں ہوئی۔ اس یقین دہانی کے باوجود ایران کی طرف سے بار بار سعودی عرب پرحملے  باعثِ تشویش بھی ہیں اور قابلِ مذمت بھی، ان حالات میں ہم سمجھتے ہیں کہ ایران عرب ممالک کا ہی کا نقصان نہیں کررہا بلکہ 
اپنا نقصان کررہا ہے۔ کیونکہ ارضِ مقدس پر اٹھنے والی ہر میلی آنکھ امت کے اتحاد کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔
سعودی عرب ایک پرامن ملک ہے، یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے انسانیت کو امن کا درس ملا۔ اس ملک نے ہمیشہ اپنی طاقت کو تعمیرِ نو اور انسانی خدمت کے لیے وقف کیاہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل کی جارحیت نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے، ایران کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرتا۔ اگر ایران ایک بھائی کے طور پر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو اعتماد میں لیتا ، تو آج مسلم دنیا کا نقشہ مختلف ہوتا اور استعماری قوتوں کو مداخلت کی ہمت نہ ہوتی۔ لیکن افسوس تہران کی پالیسیوں نے مسلمانوں کو آپس میں دست و گریبان کر کے دشمن کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔ اس پرآشوب دور میں جہاں قیادت کا فقدان عالمِ اسلام کو یتیم کر رہا تھا وہاں ایک ایسی شخصیت ابھری جس نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر بدلنے کا عزم کیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن     سلمان محض ایک حکمران نہیں، بلکہ ایک عہد ساز مدبر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی بے پناہ بصیرت اور "ویژن 2030" کے ذریعے مملکت کو جہاں معاشی اور دفاعی طور پر ناقابلِ تسخیر بنایا، وہاں ان کی خارجہ پالیسی نے یہ ثابت کیا کہ سعودی عرب انتقام، عداوت اور فرقہ واریت کے بجائے اصلاح، ترقی اور علاقائی استحکام پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو استوار کرنے کے لیے جس جرات مندی اور خلوصِ نیت کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا ایک ایسا سنہرا باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔
بیجنگ معاہدے سے لے کر براہِ راست سفارتی مذاکرات کی بحالی تک سعودی عرب نے ہر وہ قدم اٹھایا جو خطے کو آگ و خون کے کھیل سے نکال کر امن کی شاہراہ پر لا سکتا تھا۔ ولی عہد کا مقصد روزِ روشن کی طرح عیاں تھا کہ ایک ایسا مشرقِ وسطیٰ جہاں ٹیکنالوجی کا غلغلہ ہو، جہاں معیشت کی ریل پیل ہو اور جہاں مسلم ممالک ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر ابھریں۔ انہوں نے اپنے قول فعل اور عمل سے ثابت کیا کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو مستقبل کی خوشحالی اور باہمی اتحاد واتفاق کی خاطر قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مگر مقامِ افسوس ہے کہ ایران نے ان تمام مخلصانہ کوششوں کا جواب اسی پرانی روش سے دیا جس نے خطے کو بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ایران کو ادراک کرنا چاہیے تھا کہ دشمن آپ کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے اور ایسے کڑے وقت میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب امارات پر میزائل حملے درحقیقت صیہونی ایجنڈے کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں۔ ایران کا یہ طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر پست ہے بلکہ یہ اس عظیم موقع کو ضائع کرنے کے مترادف ہے جو خطے کی تقدیر بدل سکتا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی فتنہ حرمین کی مقدس سرزمین سے ٹکرایا اس نے اپنا ہی نقصان کیا اور وہ پاش پاش ہو گیا۔ سعودی عرب کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا تہران کی فاش غلطی ہوگی۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں یہ مملکت آج دفاعی طور پر اتنی مضبوط ہے کہ وہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہے۔ تاہم خادمِ حرمین شریفین کا منصب انہیں صبر اور مصلحت کا درس دیتا ہے۔ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے کیا وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر اپنی انا اور توسیع پسندانہ جنون کو قربان کر کے امتِ مسلمہ کا حصہ بنے گا یا پھر اپنی پالیسیوں سے خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل کر دشمن کا آلہ کار بنا رہے گا؟ وقت کا فیصلہ اٹل ہے: فتح ہمیشہ حق، امن اور استقامت کی ہوتی ہے۔ سعودی عرب امن کی سرزمین تھی، ہے اور رہے گی۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی دعائیں اور عقیدتیں اس ارضِ مقدس کے ساتھ ہیں۔ ولی عہد محمد بن 
سلمان کی قیادت میں یہ قافلہِ سخت جاں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور ان شاء￿  اللہ حرمین کا تقدس اور سعودی عرب کا استحکام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ تہران کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ کے صفحات میں مسلم ممالک کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتا ہے یا ایک ایسے کردار کے طور پر جس نے مشکل گھڑی میں امت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔