علی امین گنڈاپور کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

علی امین گنڈاپور کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

خیبر پختون خوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیرِ صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس کی اندرونی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جس میں صوبائی اسمبلی اجلاس سے متعلق اہم قانونی و آئینی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں کون شریک تھا؟
ذرائع کے مطابق اجلاس میں:

وزیرِ قانون
ایڈووکیٹ جنرل
سیکریٹری قانون
شریک تھے، جنہوں نے وزیراعلیٰ کو مختلف قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔

کورم نہ ہونے کی حکمت عملی:
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو اسمبلی اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی، تاہم ساتھ ہی مشورہ دیا گیا کہ:اجلاس میں کورم جان بوجھ کر پورا نہ کیا جائے۔کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کر دیا جائے تاکہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین حلف نہ اٹھا سکیں۔قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے یہ اجلاس اسپیکر کی زیرِ صدارت بلایا جائے تاکہ آئینی اعتراضات سے بچا جا سکے۔
چیف جسٹس کی ممکنہ مداخلت:
ذرائع نے مزید بتایا کہ مشاورت کے دوران وزیراعلیٰ کو خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت خود اسمبلی اجلاس نہیں بلاتی تو چیف جسٹس پاکستان کسی اور کو اجلاس بلانے کے لیے نامزد کر سکتے ہیں، جس سے حکومت کو سیاسی اور قانونی نقصان ہو سکتا ہے۔

تجزیہ:
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختون خوا کی سیاست میں مخصوص نشستوں اور کورم کے معاملات پر شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی یہ حکمت عملی بظاہر سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے اپنائی جا رہی ہے، تاہم اس پر قانونی اور عدالتی اعتراضات کا خدشہ بھی موجود ہے۔