افغان ویمن کرکٹ ٹیم تین سال بعد میلبورن میں ایکشن میں، نمائشی میچ کا آغاز

افغان ویمن کرکٹ ٹیم تین سال بعد میلبورن میں ایکشن میں، نمائشی میچ کا آغاز

افغانستان کی ویمن کرکٹ ٹیم جمعرات کو میلبورن کے جنکشن اوول میں تین سال بعد دوبارہ کرکٹ کے میدان میں واپس آئی۔

 افغان ویمن ٹیم کرکٹ ود آؤٹ بارڈرز الیون کے خلاف ایک نمائشی ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اُتری۔ یہ میچ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ویمنز ٹیموں کے ڈے اینڈ نائٹ ایشز ٹیسٹ کے افتتاحی دن سے قبل کھیلا جائے گا۔یہ میچ افغان ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ طالبان کے اقتدار کے بعد پہلی بار ہے کہ افغان ویمن کرکٹ ٹیم ایک گروپ کے طور پر اکٹھی ہوئی ہے۔ ٹیم کے نصف ارکان کینبرا میں مقیم ہیں جبکہ دیگر کھلاڑی میلبورن میں پناہ گزین کی حیثیت سے آباد ہیں۔میچ نہ صرف خواتین کرکٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ افغان خواتین کے حقوق اور مساوی مواقع کے لیے جدوجہد کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ افغان ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں ناہیدہ سپن اور فیروزہ امیری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میچ افغان خواتین کے لیے تاریخی لمحہ ہے اور یہ میچ افغان خواتین کے لیے تعلیم، کھیل اور مستقبل کے دروازے کھول سکتا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ ان کا پہلا اور آخری میچ نہ ہو، بلکہ مزید میچز ہوں تاکہ افغان خواتین کی نمائندگی کی جا سکے۔یہ میچ ایک علامتی سنگ میل ہے کیونکہ اس سے قبل افغانستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ میچز نہیں ہوئے، تاہم دونوں ٹیمیں آئی سی سی ایونٹس میں ایک ہی گروپ میں شامل ہو چکی ہیں، جن میں اگلے ماہ پاکستان اور یو اے ای میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی بھی شامل ہے۔کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو نک ہاکلے نے اس نمائشی میچ کو افغانستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی جانب پہلا قدم اور ایک امید کی کرن قرار دیا ہے۔