190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں کی تفصیلات عدالت میں پیش

190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں کی تفصیلات عدالت میں پیش

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا کے بعد ملاقاتوں کی تفصیلات پر سماعت ہوئی۔

 عدالت میں درخواست گزار کے وکیل فیصل فرید اور جیل حکام پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جیل حکام سے فون کالز اور ملاقاتوں کے حوالے سے رولز کا سوال کیا تھا، جس پر جیل حکام نے بتایا کہ عمران خان کے بیٹوں سے فون کال 13 جنوری کو کی گئی، اور بشریٰ بی بی کی دو ملاقاتیں 17، 20 اور 23 جنوری کو کی گئیں۔جیل حکام نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ واٹس ایپ کال کا حکم عدالتی درخواست پر کیا گیا تھا، کیونکہ رولز میں اس کا ذکر موجود ہے۔ چیف جسٹس نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا ہر بار ملاقات یا فون کال کے لیے درخواست دینی پڑے گی؟ جیل حکام نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق ملاقات کرائی گئی۔

چیف جسٹس نے جیل حکام کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہی جواب دینا تھا تو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ذاتی طور پر طلب کیا جاتا۔ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 جنوری کا عدالتی آرڈر پڑھ کر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔اس کیس میں جیل حکام کے فیصلوں اور درخواستوں کے مطابق عمران خان کی ملاقاتوں کی تفصیلات پر غور کیا جا رہا ہے۔