امریکا میں اسکول کے فلسطینی طالب علم کو سیٹ بدلنے کی درخواست پر ٹیچر نے دہشت گرد قرار دے دیا
پنسلوانیا کے ایک اسکول میں ایک فلسطین نژاد امریکی طالب علم نے اپنی سیٹ بدلنے کی درخواست کی، جس پر ٹیچر نے انتہائی غیر مہذب الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ وہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں سے بات نہیں کرتے۔ اس واقعے کے بعد امریکن اسلامک ریلیشنز کونسل (CAIR) نے اس کی مذمت کی اور واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ٹیچر نے طالب علم کو بغیر کسی وجہ کے دہشت گرد قرار دیا، جو نہ صرف طالب علم کے ساتھ توہین آمیز سلوک تھا بلکہ اس کے حقوق کی بھی خلاف ورزی تھی۔اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اسکول کی انتظامیہ نے فوری طور پر ٹیچر کو معطل کر دیا ہے۔
اسکول انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ نسل پرستی اور نفرت انگیز تقریر کو برداشت نہیں کریں گے اور تحقیقات مکمل ہونے تک ٹیچر کو معطل رکھا جائے گا۔ تاہم، طالب علم اور ٹیچر کا نام ابھی تک منظرعام پر نہیں آیا۔امریکن اسلامک ریلیشنز کونسل نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں مسلمانوں اور فلسطینی کمیونٹی کے خلاف موجود تعصب کو مزید بڑھاتی ہیں۔ تنظیم نے طالب علم کے والدین سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس معاملے کو صحیح طریقے سے حل کیا جا سکے اور متاثرہ طالب علم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔