شبِ معراج آج مذہبی عقیدت سے منائی جائے گی

شبِ معراج آج مذہبی عقیدت سے منائی جائے گی

شبِ معراج، جسے 27 رجب کی مقدس رات کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، آج ملک بھر میں مذہبی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

 اس رات کو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معراج کا شرف عطا ہوا، جو دینِ اسلام کی تاریخ کا ایک اہم اور مقدس واقعہ ہے۔

مساجد کی تزئین و آرائش اور محافل کا انعقاد:
ملک کے مختلف شہروں، خصوصاً راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں میں مساجد کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ چراغاں کا اہتمام کیا گیا، اور خصوصی محافل اور عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ علمائے کرام اور مقررین واقعہ معراج کی اہمیت، اس کی فضیلت، اور اس سے وابستہ درس پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

معراج کا واقعہ:
معراج کے دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام براق لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ براق پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ پہنچے، جہاں تمام انبیائے کرام کو نماز کی امامت کرائی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے حضور لے جایا گیا، جہاں جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا اور نماز کی فرضیت کا حکم دیا گیا۔

معراج کے دوران مشاہدات:
نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا۔آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے سر پتھر سے توڑے جا رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو نماز میں سستی کرتے تھے۔ایسے افراد دیکھے جنہوں نے زکوٰۃ ادا نہیں کی اور جہنم کے پتھر کھا رہے تھے۔ایسے لوگ جنہوں نے پاکیزہ بیویوں کو چھوڑ کر زنا کے لیے خبیث عورتوں کو اختیار کیا۔یتیموں کا مال کھانے والوں کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کے منہ میں آگ کے گولے ڈالے جا رہے تھے۔ایسے مقررین جو دوسروں کو نصیحت کرتے مگر خود عمل نہ کرتے تھے، ان کی زبانوں کو لوہے کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔
قریش کا ردعمل:
نبی کریم ﷺ نے جب یہ واقعہ بیان کیا تو قریش کے لوگوں نے مذاق اڑایا۔ سردارِ قریش، ابوجہل نے نبی ﷺ سے واقعہ کی تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا اور لوگوں کو بلایا۔ کچھ لوگ حیرت زدہ ہو گئے، بعض نے نبی ﷺ کا مذاق اڑایا، اور چند ایمان سے منحرف ہو گئے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی اور ایمان کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔

شبِ معراج کی فضیلت:
معراج کی رات کو مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین بڑے تحفے دیے گئے:

نماز کی فرضیت: پانچ وقت کی نماز کو ہر مسلمان پر لازم قرار دیا گیا۔
ایمان کے اصولوں کی تشریح: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی حقانیت کا پیغام مضبوط کیا گیا۔
امت کے لیے شفاعت کا وعدہ: نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے لیے شفاعت کا حق عطا ہوا۔
اختتامی دعا:
شبِ معراج کے موقع پر مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے، نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند کرے، اور دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے۔ اس رات کو خصوصی ذکر و اذکار اور نوافل کے ذریعے گزارا جاتا ہے۔یہ رات ہمیں اللہ تعالیٰ کے قرب، اس کی وحدانیت، اور نبی کریم ﷺ کی فضیلت کا درس دیتی ہے۔