راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک افغان سرحدی صورتحال پر اہم پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے بعد افغان طالبان رجیم نے ردعمل کے طور پر بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کا سلسلہ شروع کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے پاک افغان بارڈر کے 15 مختلف سیکٹرز میں مجموعی طور پر 53 مقامات پر حملے اور فائرنگ کی گئی، تاہم پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت حکمت عملی کے ذریعے تمام حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا اور دشمن کو کسی قسم کی پیش قدمی کا موقع نہیں دیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جاری آپریشن "غضب للحق" کے دوران فضائیہ اور بری افواج نے مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے کابل، پکتیا اور قندھار سمیت مختلف علاقوں میں دشمن کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افغان پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں اور دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے دفاع کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔وزیراطلاعات کے مطابق جاری کارروائیوں کے دوران اب تک افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستانی افواج کی مؤثر حکمت عملی کے باعث دشمن کے متعدد ٹھکانے اور عسکری تنصیبات بھی تباہ کی گئی ہیں۔