واشنگٹن/نیویارک: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford اسرائیل پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بحری جہاز پیر کو یونان کے جزیرے کریٹ میں واقع امریکی اڈے سے روانہ ہوا اور اسرائیل پہنچا۔ ایتھنز میں امریکی سفارت خانے نے جہاز کی موجودگی پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور تمام سوالات واشنگٹن میں پینٹاگون کو بھیج دیے گئے۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 26 فروری کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا نیا دور بھی ہوا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر فوجی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت امریکا کے ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln سمیت درجن سے زائد جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں نو ڈسٹرائرز اور دیگر جنگی بحری جہاز شامل ہیں۔
خطے میں بیک وقت دو امریکی طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران پر حملے کا حکم دے چکا ہے اور خبردار کیا تھا کہ اگر ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام پر نیا معاہدہ نہ کرے تو مزید فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار کی تیاری کی طرف بڑھ سکتا ہے، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔