یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ، جو دنیا کے سب سے بڑے جدید طیارہ بردار بحری بیڑوں میں شمار ہوتا ہے، آتشزدگی کے باعث شدید نقصان کا شکار ہو گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ حادثہ 12 مارچ کو جہاز کے لانڈری ایریا میں آگ لگنے سے پیش آیا، جس پر قابو پانے میں تقریباً 30 گھنٹے لگے۔ اس دوران دو امریکی فوجی زخمی ہوئے۔حادثے کے بعد جہاز کو یونانی جریزے میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہاں اس کی مکمل مرمت کی جا سکے۔ ترجمان امریکی نیوی نے بتایا کہ مرمت کے بعد یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش جلد مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جائے گا تاکہ جیرالڈ فورڈ کی غیر موجودگی کا اثر کم کیا جا سکے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق جہاز پر موجود تقریباً 600 ملاحوں کے بستر جل گئے، جس کی وجہ سے وہ ایک ہفتے تک فرش پر سونے پر مجبور رہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ پر انہوں نے میزائل حملہ کیا، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور اس حادثے کو صرف حادثاتی آتشزدگی قرار دیا ہے۔یہ واقعہ امریکی بحری بیڑے کی جنگی تیاری اور مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ جیرالڈ فورڈ اس خطے میں اہم مشن انجام دینے والا بیڑا ہے۔