امیر جماعت اسلامی کا پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار

امیر جماعت اسلامی کا پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی ممالک سے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس حساس موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا دونوں ہمسایہ اسلامی ممالک کے عوام کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کے مطابق پاک افغان کشیدگی ایسے وقت شدت اختیار کر رہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے، جو عالم اسلام کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ یہ سمجھیں کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہو سکتا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے جواز تلاش کر رہا ہے اور غزہ میں ہونے والے واقعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے عالمی علماء اور اسلامی ممالک بشمول چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب سے اپیل کی کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور کشیدگی کم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پاک-سعودی عرب دفاعی تعاون بعض قوتوں کے لیے ناقابل قبول ہے اور عالم اسلام کے اتحاد کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہے۔