امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں طلبہ حقوق کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں موجود حکومتی نظام کی سخت مذمت کی اور اسٹیبلشمنٹ، جرنیلوں اور بیوروکریسی کے کردار پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے اپنے آپ کو قوم کا حاکم سمجھ لیا ہے اور عوام کو غلام بنایا ہوا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انگریزوں کے دور میں تیار ہونے والی بیوروکریسی کو یہ سکھایا گیا تھا کہ وہ حکمران ہیں، اور آج بھی ان کا ذہن ویسا ہی ہے، حالانکہ انگریز خود چلے گئے ہیں۔انہوں نے اسلامی جمعیت طلبا کی تنظیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم پاکستان کے قیام سے ہی موجود ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبا ایک جمہوری فورس ہے اور ان کے کسی بھی قائد کا انتخاب وراثت یا وصیت پر نہیں ہوتا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں جیسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت خاندانوں تک محدود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومتی نظام میں 70 سے 80 فیصد ارکان کھرب پتی ہیں اور غریب عوام کے لیے اسمبلیوں میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی نمائندے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کرتے ہیں، جو کہ انتہائی شرمناک ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں جمہوریت کے فقدان اور حکومتی بدعنوانی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کا نظام اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے بنیادی نظریے پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عوام کے لیے فیصلے کرنے والوں کی ذہنیت عوام کے مفاد میں نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے اس موقع پر بنگلہ دیش کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سکوت ڈھاکہ کی وجہ سے بنگلہ دیش پاکستان سے جدا ہو گیا تھا اور اس میں اہم کردار جنرل ایوب، یحییٰ خان، زولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان کے نظریے پر مکمل عمل نہیں ہوگا، تب تک ملکی یکجہتی اور ترقی کا خواب حقیقت نہیں بن سکے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے اسلامی جمعیت طلبا کے کردار کو اہمیت دی اور کہا کہ اس تنظیم نے ہمیشہ غریب طلبہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے اور انہیں تعلیم کے دروازے بند نہیں ہونے دیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے حقوق کا احترام کرے اور ان کے لیے ترقی کے دروازے کھولے تاکہ ملک میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔