رباب گل
زمین کی مہک، کھیتوں کی سرسراہٹ اور لہلہاتی فصلوں کا منظر کسی قوم کی معیشت کا وہ عکس ہوتا ہے جس میں ترقی کی داستان چھپی ہوتی ہے۔ پاکستان، جو اپنی زرخیز مٹی اور زراعت کے لیے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، بدقسمتی سے آج اپنی بنیاد کو کمزور ہوتا دیکھ رہا ہے۔ وہی بنیاد جو کسی بھی قوم کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
زراعت ایک ایسی صنعت ہے جو مٹی کی خوشبو اور کسان کے پسینے کے ملاپ سے پروان چڑھتی ہے۔ پاکستان میں گندم، چاول، مکئی، باجرہ، چنا سمیت دیگر فصلیں زمین کا زیور ہیں۔ لیکن اس زیور کو سجانے والے کسان کی حالتِ زار دیکھ کر دل غمگین ہو جاتا ہے۔
کسان وہ ہستی ہے جو صبحِ صادق کے وقت آسمان کی گواہی میں کھیتوں کا رخ کرتا ہے۔ جس کے پیروں تلے مٹی کا لمس اور پیشانی پر دھوپ کی گرمی ہوتی ہے۔ وہ مٹی سے سونا اگاتا ہے لیکن جب یہ سونا منڈی میں پہنچتا ہے تو وہی کسان قرضوں اور غربت کے بھنور میں پھنس جاتا ہے۔
بینرز اور تقریریں "خوشحال کسان" کی باتیں تو کرتی ہیں مگر ان سے کسان حقیقت میں خوشحال نہیں ہوسکتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کسان کا ہر دن ایک نیا امتحان کیوں ہوتا ہے؟ جب وہ بیج بوتا ہے تو بارش کی دعا کرتا ہے، جب بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی سے بچاؤ کے لیے تگ و دو کرتا ہے، جب فصل تیار ہوتی ہے تو اچانک بازار میں نرخ گر جاتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ اس وقت کسان پر کیا بیتتی ہوگی؟
کسان کی یہ محنت محض معاش کا ذریعہ نہیں، یہ عبادت کے مانند ہے۔ قرا?ن مجید میں بھی زراعت اور کسانوں کا ذکر کئی بار ا?یا ہے:
"تم نے دیکھا کہ جو کچھ تم بوتے ہو، کیا تم اسے اْگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں؟" (سور? الواقعہ: 64-63)
یہی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کسان کی محنت میں اللہ کی قدرت شامل ہوتی ہے اور یہی محنت ہمیں اپنی زندگی کی قدر کرنے کا درس دیتی ہے۔
ہمارے معاشرے کی بے حسی یہ ہے کہ کسان کے مسائل کو کبھی سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ کھاد اور بیج کی قیمتوں میں اضافہ، پانی کی قلت اور غیر مناسب نرخ نے کسان کو بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اگر کسان کی زندگی سہل بنا دی جائے، تو ملک کی معیشت بھی مستحکم ہو جائے گی۔
کسان کے مسائل کا حل بینرز پر "خوشحال کسان" کے نعرے لکھوانے میں نہیں، بلکہ حقیقی اقدامات میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی آلات اور کھاد کے نرخ کم کرے اور منڈی میں کسانوں کی فصل کا مناسب معاوضہ یقینی بنائے۔ ساتھ ہی، کسانوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے وظائف دیے جائیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسان کو عزت دیں، اس کی مشکلات کو سمجھیں اور اسے اس کا حق دیں۔ یاد رکھیے! اگر کسان مضبوط ہوگا تو زراعت ترقی کرے گی اور زراعت کی ترقی ہی کسی بھی قوم کی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔
"کسان اس دھرتی کا وہ سپاہی ہے جو زمین کو سرسبز و شاداب رکھتا ہے۔ اگر ہم نے اس سپاہی کی قدر نہ کی، تو ہماری معیشت کا یہ میدان خالی ہو جائے گا اور خالی میدان میں خوشحالی کا کوئی چراغ نہیں جل سکتا۔"