موسم گرما میں سستی بجلی کی پیداوار میں کمی کا خدشہ، حکام کی پیش گوئی

موسم گرما میں سستی بجلی کی پیداوار میں کمی کا خدشہ، حکام کی پیش گوئی

ویب ڈیسک: پاکستان میں موسم گرما کے دوران پانی کی سطح میں کمی اور کم بارشوں کی وجہ سے ممکنہ طور پر سستی بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہو گا۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس کمی کے باعث بجلی کی پیداوار میں مشکلات آ سکتی ہیں۔نیپرا نے واپڈا سے پانی کی صورتحال پر تفصیلات طلب کی ہیں اور آئندہ سماعت میں واپڈا حکام کو طلب کیا گیا ہے۔ نیپرا کے چیئرمین نے کہا کہ اس بار بارشیں کم ہوئی ہیں اور برفباری بھی محدود رہی ہے، اس لیے موسم گرما کے لیے واپڈا نے کیا تیاری کی ہے؟حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ موسم گرما میں پانی کی سطح میں ایک سے ڈیڑھ فٹ تک کمی متوقع ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں سستی بجلی کی پیداوار میں کمی ہو گی، اور پاکستان کو درآمدی ایل این جی پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔

سی پی پی اے حکام کے مطابق، جنوری میں سردی کی شدت کم ہونے کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں کمی دیکھنے کو ملی۔ سالانہ بنیادوں پر بجلی کی کھپت میں 2 فیصد کمی آئی ہے۔ این ٹی ڈی سی حکام نے بتایا کہ جنوری میں کوئی بڑا بریک ڈاؤن نہیں ہوا، جس سے توانائی کے نظام میں استحکام رہا۔اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو موسم گرما میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر پانی کی کمی اور ایل این جی کی درآمد پر انحصار بڑھنے سے۔