جمہوریت کی باتیں مگر اپوزیشن کی کانفرنس سے خوف: مصطفیٰ نواز کھوکھر

جمہوریت کی باتیں مگر اپوزیشن کی کانفرنس سے خوف: مصطفیٰ نواز کھوکھر

اپوزیشن جماعتوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ سوچوں پر پہرے نہیں لگائے جا سکتے، اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، آئین کی پامالیاں جاری ہیں، اور آج کی کانفرنس میں ملک کی بہتری کے لیے ایجنڈا ترتیب دینے پر گفتگو ہوئی۔انہوں نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، باہر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جس کا مقصد اس تقریب کو روکنا تھا۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی بحران کا شکار ہے، اور آئین نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق ریاست کے ساتھ جو معاہدہ تھا، اسے ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ پیکا قانون جیسے قوانین کے ذریعے آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت میں موجود افراد مستعفی ہوں اور ملک میں آئین کی بحالی کی تحریک جاری رکھی جائے گی۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ چاہے پولیس کے دستے تعینات کر دیے جائیں یا دروازے بند کر دیے جائیں، ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے سندھ کے پانی کی بندش پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ وہاں کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔