سپریم کورٹ میں سانحۂ 9 مئی کے مقدمات کی سماعت دو ہفتوں کے لیے مؤخر

سپریم کورٹ میں سانحۂ 9 مئی کے مقدمات کی سماعت دو ہفتوں کے لیے مؤخر

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سانحۂ 9 مئی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے اضافی ریکارڈ پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی۔

 تاہم، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آئندہ ہفتے نہیں، بلکہ اس کے بعد والے ہفتے سماعت ہوگی۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی درخواست پر، عدالت نے مقدمات کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ اس دوران، بانیٔ پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کرنے کا کیس اور دیگر ملزمان کے مقدمات کی سماعت بھی بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔مزید برآں، انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں سانحۂ 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت کے دوران، تفتیشی افسران کی جانب سے چالان کی نقول جمع نہ کروانے پر عدالت نے ان کی سرزنش کی اور آئندہ سماعت پر مکمل چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔

 ان مقدمات میں 429 ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے بعض عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔علاوہ ازیں، سپریم کورٹ نے مقدمات کی جلد سماعت کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل دی ہے، جس کے تحت ضمانت اور قبل از گرفتاری کی درخواستوں، انتخابی عذرداریوں، مقدمات کی منتقلی، مصالحتی اور خاندانی مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا۔ ایسے مقدمات میں جلد سماعت کے لیے علیحدہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔