بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث سماعت کو 23 اپریل تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل تھے، نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔اس موقع پر سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں ہے اور ابھی تک وہاں سے واپس نہیں آیا۔ اسی وجہ سے عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر کارروائی مؤخر کرتے ہوئے اسے 23 اپریل تک ملتوی کر دیا۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستیں انسداد دہشت گردی عدالت سے مسترد ہو چکی تھیں، جس کے بعد ان فیصلوں کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ اس مقدمے میں عدالت نے کہا کہ جب تک ریکارڈ واپس نہیں آتا، کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔