سپریم کورٹ کے جج جسٹس نعیم اختر افغان نے نجی کمپنی کے حصص اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عدالت میں کیس چلنے سے روکنے کی کوشش کی گئی اور راستے سے فائلیں چوری ہو گئیں۔
بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔ جج نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی حراسانی ثابت ہونے کے بعد امریکا اور تھائی لینڈ میں مقیم افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔جسٹس نعیم اختر افغان نے تمام زیر التوا مقدمات کو یکجا کرنے کا کہا تاکہ نیک نیتی اور بدنیتی کا تعین کیا جا سکے۔ عدالت نے کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔