اپوزیشن رہنماؤں کا قومی کانفرنس کے لیے ہوٹل میں زبردستی داخلہ

اپوزیشن رہنماؤں کا قومی کانفرنس کے لیے ہوٹل میں زبردستی داخلہ

اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی دو روزہ قومی کانفرنس کے دوران حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ہوٹل انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر کانفرنس کی اجازت منسوخ کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت ایک کانفرنس سے گھبرا رہی ہے اور ہوٹل انتظامیہ کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانفرنس ہر صورت جاری رہے گی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے بھی حکومت کی ان حرکتوں کی مذمت کی اور کہا کہ اگر کانفرنس میں رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کریں گے۔ محمود خان اچکزئی نے عوام کو حق حکمرانی میں شراکت دار بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس میں وکلا، صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر تبادلہ خیال کیا۔