جماعت اسلامی کے تحت بین الاقوامی گول میز کانفرنس، عالمی رہنماؤں اور شخصیات کی بھرپور شرکت

جماعت اسلامی کے تحت بین الاقوامی گول میز کانفرنس، عالمی رہنماؤں اور شخصیات کی بھرپور شرکت

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمگیر نظام بین الاقوامی ادارے ناکام ہو چکے ہیں، خاص طور پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل طاقتور ممالک کے دباؤ کی وجہ سے مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

 انہوں نے اس ناکامی کی سب سے واضح مثال غزہ کا بحران ذکر کیا، جہاں طاقت اور مفادات نے انصاف کو بے معنی بنا دیا ہے۔انہوں نے اس کانفرنس کا مقصد انسانیت کو درپیش مشترکہ مسائل کو اجاگر کرنا اور مسلم دنیا کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا بتایا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صنعتی ترقی کے باوجود عام انسان تک اس کے فوائد نہیں پہنچ رہے، اور سیاسی و معاشی حالات کمزور طبقات کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا مختلف بحرانوں کا شکار ہے، جن میں غزہ، کشمیر، روہنگیا اور سوڈان شامل ہیں، اور یہ سب عالمی اداروں کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے مسلم ممالک کو ایک مشترکہ مؤقف کے تحت آگے بڑھنا ہوگا، اور پاکستان میں ایک مستقل مرکز قائم کیا جائے تاکہ مسلم دنیا کے مسائل کو مؤثر انداز میں عالمی فورمز تک پہنچایا جا سکے۔

سابق سینیٹر اور امورِ خارجہ کے ماہر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں بھارت اور اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف تمام مسلم ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک کے درمیان گفتگو، تعاون اور ایک نظریہ کے تحت ورلڈ آرڈر کو شکست دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مغرب کی سیاسی اور معاشی برتری کے کمزور ہونے کا بھی ذکر کیا، اور ترکی، ایران، سعودی عرب، پاکستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو عالمی سیاست میں ابھرتی ہوئی قوتیں قرار دیا۔ مشاہد حسین سید نے پاکستان اور فلسطین کے تاریخی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1940 کی قراردادیں فلسطین اور پاکستان کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں، اور قائد اعظم نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں امن صرف اس وقت ممکن ہے جب ایک آزاد ریاست کے قیام کے ساتھ یروشلم کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔

کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک سے اہم شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جنوبی افریقہ سے افریقی نیشنل کانگریس اور ورلڈ کونسل آف چرچز کے رہنما ریورنڈ فرینک چیکان شریک ہوئے، ترکیہ سے رکنِ پارلیمنٹ برہان کایاتورک اور نیو ویلفیئر پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاتح اربکان نے خطاب کیا۔ برازیل سے انسانی حقوق اور ماحولیاتی کارکن تیاقو آویلا، فلسطین سے ڈاکٹر سامی العریان اور شیخ منیر سعید، لبنان سے شیخ عزام ایوبی اور پروفیسر رمیز الطنبور، ملائیشیا سے داتو حاجہ ممتاز، ڈاکٹر سید عظمٰی، بادشاہی شاہ اور نور جہاں مختلس، برطانیہ سے براڈکاسٹر و صحافی لارن بوتھ، ڈاکٹر انس التکرتی اور ڈاکٹر زاہد پرویز، امریکہ سے پروفیسر جان ایسپوسیٹو، شان کنگ اور ڈاکٹر غلام نبی فائی، بوسنیا سے جہجا ملہسیلوویا، صومالیہ سے ڈاکٹر محمد حسین عیسیٰ، مراکش سے ڈاکٹر اوس رمال، عراق سے شیخ اسماعیل النجم، شیخ اسیر اصلاحی اور مثنیٰ ایمن، فلپائن سے اسماعیل ابراہیم اور سوڈان سے امین حسن عمر شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی شعبہ امور خارجہ کے سربراہ آصف لقمان قاضی اور ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس کانفرنس میں شریک شخصیات نے عالمی سیاسی تبدیلیوں، انسانی حقوق کی صورت حال، اور مسلم ممالک کے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک مربوط اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی ہی مستقبل کے عالمی بیانیے کو بدلنے اور مسلم دنیا کے مفادات کے تحفظ کے لئے موثر ثابت ہو سکتی ہے۔