تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر، عالیہ حمزہ، نے گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب، اور چیف سیکرٹری پنجاب کو ایک قانونی مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں سرکاری خزانے سے سیاستدانوں کی تشہیر پر خرچ کیے جانے والے فنڈز پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ مراسلہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے بھیجا گیا ہے۔
مراسلے کے اہم نکات:
فنڈز کا استعمال: مراسلے میں استفسار کیا گیا ہے کہ سرکاری اشتہارات پر کتنے فنڈز خرچ کیے گئے اور کیا اس خرچ کی منظوری صوبائی کابینہ سے لی گئی تھی۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی: مراسلے کے مطابق، سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو واضح احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جن میں سرکاری فنڈز کو سیاستدانوں کی تشہیر کے لیے استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
عوامی مفاد: مراسلے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ان اشتہارات پر خرچ ہونے والے فنڈز سے عوام کو کیا فائدہ پہنچا، کون سی سہولیات فراہم کی گئیں، اور کیا عوامی مسائل حل ہوئے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کا پس منظر:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں سرکاری اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر شامل کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ سرکاری فنڈز سے سیاستدانوں کی تشہیر مناسب نہیں اور یہ عوام کے پیسے کا غلط استعمال ہے۔ عدالت نے حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ سرکاری اشتہارات میں سیاسی مہم چلانے سے گریز کریں۔اس مراسلے کے ذریعے تحریک انصاف نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنائے اور عدالتی احکامات کی پاسداری کرے۔