چین کے شہر لنکانگ کے ایک گاؤں میں شادی اور نجی زندگی سے متعلق سخت جرمانے عائد کیے جانے پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اس فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین نے کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق گاؤں کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں غیر صوبائی شادی، بغیر نکاح ساتھ رہنے اور غیر شادی شدہ حمل پر بھاری جرمانوں کا اعلان کیا گیا ہے۔نوٹس کے مطابق اگر کوئی شخص صوبے سے باہر شادی کرتا ہے تو اس پر 1500 یوان (تقریباً 60 ہزار روپے) جرمانہ عائد ہوگا۔ اسی طرح بغیر شادی کے حاملہ ہونے کی صورت میں 3000 یوان (تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار روپے) جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں بغیر نکاح ساتھ رہنے والے جوڑوں کو ہر سال 500 یوان ادا کرنا ہوں گے، جبکہ شادی کے بعد 10 ماہ سے پہلے بچے کی پیدائش پر بھی 3000 یوان جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ان اقدامات کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ نجی زندگی سے متعلق ایسے فیصلے انسانی حقوق اور ملکی قوانین کے خلاف ہیں، جبکہ بعض ناقدین نے اسے ریاستی مداخلت کی انتہا قرار دیا ہے۔