آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسی عظیم رہنما کو یاد کیا جا رہا ہے جن کی زندگی، جدوجہد اور قربانی پاکستان میں جمہوریت کے استحکام سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے‘عالم سلام کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہیں پاکستانی عوام نے دو مرتبہ منتخب کیا
آمریت، سیاسی پابندیوں اور خواتین کے لئے مشکلات سے بھرپور ماحول میں انہوں نے آئین، پارلیمان اور عوام کے ووٹ کے حق کے لیے بھرپور اور اصولی جدوجہد کی‘غریب عوام کی آواز بن کر سیاست کی:برسی پر پیغام
راولپنڈی‘اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن) سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سمیت 23 کارکنوں کی شہادت کے سانحہ لیاقت باغ کی 18 ویں برسی آج منائی جائے گی 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے 23کارکنوں کی شہادت سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ دریں اثناء صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے شہیدِ جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک ایسی عظیم رہنما کو یاد کیا جا رہا ہے جن کی زندگی، جدوجہد اور قربانی پاکستان میں جمہوریت کے استحکام سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں، جنہیں پاکستانی عوام نے دو مرتبہ منتخب کیا۔ آمریت، سیاسی پابندیوں اور خواتین کے لیے مشکلات سے بھرپور ماحول میں انہوں نے آئین، پارلیمان اور عوام کے ووٹ کے حق کے لیے بھرپور اور اصولی جدوجہد کی۔ ان کی انتخابی کامیابیاں جمہوریت اور پْرامن سیاست پر ان کے غیر متزلزل یقین کی عکاس ہیں۔آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ معاشرے کے محروم طبقات، کسانوں، مزدوروں اور غریب عوام کی آواز بن کر سیاست کی۔ ان کی توجہ عوامی فلاح، نوجوانوں کے لیے روزگار، تعلیم، بنیادی سہولتوں اور سماجی ترقی کے مواقع بڑھانے پر مرکوز رہی۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو ایک ایسے پاکستان کی حامی تھیں جہاں سب کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ وہ فرقہ واریت، نفرت اور عدم برداشت کے خلاف کھل کر بولتی رہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے مستقل آواز اٹھائی۔ ان کا خواب ایک ایسا ملک تھا جہاں ہر مذہب اور طبقے کے افراد کو عزت، برابری اور تحفظ حاصل ہو۔صدر مملکت کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدلتی دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے 1990ء کی دہائی میں معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور جدید ذرائع ابلاغ کی حوصلہ افزائی کی، جس سے مستقبل میں معاشی مواقع اور بہتر روابط کی بنیاد پڑی۔
انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف بے نظیر بھٹو کا جرات مندانہ مؤقف تاریخ کا اہم باب ہے۔ انہوں نے تشدد اور نفرت کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے نظریات کی قیمت جان کی صورت میں ادا کی۔ ان کی شہادت اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ تعلیم، سوچ اور باہمی احترام سے بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عہد کا اعادہ کیا ک پاکستان کو ایک جمہوری، ہمہ گیر اور مستقبل بین ریاست بنانے کے لیے بے نظیر بھٹو کے وژن کو آگے بڑھایا جائے گا۔