سینیٹ کمیٹی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی

سینیٹ کمیٹی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت مختلف ٹیکس اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

سینیٹ کمیٹی کا اجلاس اور چیئرمین ایف بی آر کا بیان
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے شرکت کی۔ اجلاس میں ٹیکس پالیسیوں، بینکوں پر لاگو ٹیکس، اور مستقبل کے ٹیکس اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ 2026 میں ٹیکس کی شرح 43 فیصد اور 2027 میں 42 فیصد ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے 70 ارب روپے کے سالانہ نقصان پر قابو پالیا ہے اور اب ٹیکس اصلاحات کے تحت مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انکم ٹیکس اور بینکنگ سیکٹر پر اثرات
چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ بینکوں کے اکاؤنٹنگ سال پر لاگو ٹیکس وصول کر لیا گیا ہے، جبکہ انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کے قوانین علیحدہ ہیں۔

وزیر خزانہ کی ٹیکس پالیسی پر گفتگو
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت منافع پر ٹیکس بڑھانے پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے مختلف مراعات دینے کے دیگر طریقوں پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرضوں کی ضرورت کے باعث بینک آگے آتے ہیں، اور بینکوں پر ٹیکس کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر تبدیلی کی گئی ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کی اہم نکات
2026 میں ٹیکس کی شرح 43% اور 2027 میں 42% ہوگی۔
بینکوں پر لاگو ٹیکس پہلے ہی وصول کیا جا چکا ہے۔
70 ارب روپے کے سالانہ نقصان پر قابو پا لیا گیا۔
حکومت منافع پر ٹیکس بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
بینکوں پر ٹیکس کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر ردوبدل ہوگا۔
یہ ترمیمی بل آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جا چکا ہے، تاہم اس پر مزید بحث اور مشاورت جاری ہے۔