خواتین کیلئے لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں الگ جیلیں قائم کی جائیں لاہور ہائی کورٹ

جیلوں میں خواتین ملزموں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے‘ لمبے عرصہ سے قید ملزموں کے لئے آخری سال اوپن جیل میں گزارا جائے
جیل ملازمین قیدیوں سے اچھا سلوک روا رکھیں‘ ذہنی مریض قیدیوں کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ منتقل کیا جائے:درخواستوں پر حکمنامہ جاری
 لاہور(کورٹ رپورٹر ) لاہور ہائیکورٹ نے جیل ملازمین کو قیدیوں سے اچھا سلوک روا رکھنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ نے جیل میں بنیادی حقوق سے متعلق درخواستوں کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ جس میں کہا گیا  ہے خواتین ملزموں کے لیے لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں الگ جیلیں قائم کی جائیں۔ اور جیلوں میں خواتین ملزموں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔عدالت نے حکم دیا کہ لمبے عرصہ سے قید ملزمان کے لیے آخری سال اوپن جیل میں گزارا جائے۔ اور اوپن جیل کو انتہائی کم سیکیورٹی کے ساتھ تیار کیا جائے۔راولپنڈی جیل میں اسلام آباد کی حدود کے 3 ہزار 200 ملزمان قید ہیں۔ اسلام آباد میں جیل کا قیام راولپنڈی جیل کے رش کو کم کر سکتا ہے۔ تحریری حکمنامے میں کہا گیا  جیل ملازمین قیدیوں سے اچھا سلوک روا رکھیں۔ اور ذہنی مریض قیدیوں کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ منتقل کیا جائے۔ ذہنی امراض کا شکار قیدیوں کے لیے الگ وارڈز بھی تعمیر کی جائیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ملتان، راولپنڈی میں قید ذہنی مریضوں کے علاج کو یقینی بنایا جائے اور حکومت پنجاب پروبیشن افسران کی تربیت پر بھی کام کرے۔