لندن: انگلینڈ کے فاسٹ بولر جوش ٹنگ نے انکشاف کیا ہے کہ کپتان جو روٹ نے برائیڈن کارس کے حالیہ واقعے کے بعد ٹیم کے کھلاڑیوں کو میدان سے باہر رویے کے حوالے سے واضح اور سخت پیغام دیا ہے۔
جوش ٹنگ کے مطابق جو روٹ نے ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں سے کھل کر بات کی اور انہیں یاد دلایا کہ انگلینڈ کی نمائندگی ایک اعزاز ہونے کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ کپتان نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ میدان کے اندر اور باہر پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کریں اور اپنے طرز عمل سے ٹیم اور ملک کی ساکھ کو متاثر نہ ہونے دیں۔یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلینڈ کے آل راؤنڈر برائیڈن کارس کو ڈربی میں ایک نائٹ آؤٹ کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے اسکواڈ سے باہر کردیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کارس کو مذکورہ واقعے کے دوران مختصر طور پر پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی انہیں پولیس کی تحویل میں دیکھا گیا، جس کے بعد معاملہ کرکٹ کے متعلقہ ریگولیٹری ادارے کو بھیج دیا گیا۔جوش ٹنگ نے بتایا کہ واقعے کے بعد جو روٹ نے ڈریسنگ روم میں صورتحال پر کھل کر بات کی۔ ان کے مطابق کپتان نے واضح کیا کہ انگلینڈ کی ٹیم کا حصہ بننے والے ہر کھلاڑی سے ایک مخصوص معیار کے پیشہ ورانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ٹنگ کا کہنا تھا کہ ٹیم نے واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اب اپنی توجہ دوبارہ کرکٹ پر مرکوز کردی ہے۔
ان کے مطابق کھلاڑی ماضی کے معاملے کو پیچھے چھوڑ کر لارڈز ٹیسٹ کی تیاری اور پاکستان کے خلاف اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیم کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑی متحد رہیں اور آنے والے میچ میں اپنی بہترین کرکٹ پیش کریں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جوش ٹنگ خود بھی گزشتہ سال ایک نائٹ کلب سے متعلق تنازع میں موجود تھے، تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اس کے باوجود ٹنگ نے موجودہ صورتحال میں کپتان کے پیغام اور ٹیم کے اندر پیشہ ورانہ رویے کی اہمیت پر زور دیا۔ٹنگ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور انگلینڈ کی کامیابی میں ان کی بولنگ کو نمایاں قرار دیا گیا۔ ان کی کارکردگی کے بعد اب ٹیم کو لارڈز ٹیسٹ میں بھی ان سے مؤثر بولنگ کی امید ہے۔انگلینڈ کی ٹیم اس وقت پاکستان کے خلاف سیریز میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ کارس کا معاملہ ٹیم کے میدان سے باہر نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
ٹیم انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو دیے گئے پیغام سے واضح ہوتا ہے کہ انگلینڈ کرکٹ اپنے کھلاڑیوں کے ذاتی طرز عمل کو بھی ٹیم کی مجموعی ساکھ اور پیشہ ورانہ معیار سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔