علی پور میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت، شہری کو ہنی ٹریپ کے ذریعے لوٹ لیا گیا

علی پور میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت، شہری کو ہنی ٹریپ کے ذریعے لوٹ لیا گیا

علی پور: پنجاب کے ضلع علی پور میں پولیس اہلکاروں کی خواتین کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے ہنی ٹریپ کی واردات کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ایک شہری کو خواتین کے ذریعے مبینہ طور پر جال میں پھنسا کر اغوا کیا گیا اور بعد ازاں تشدد کا نشانہ بنا کر لوٹ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری کو مبینہ طور پر خواتین کے ذریعے ایک مقام پر بلایا گیا، جہاں پہنچنے کے بعد اسے زبردستی اغوا کرلیا گیا۔ متاثرہ شخص کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے خود کو سی سی ڈی اہلکار ظاہر کیا اور اسے حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔متاثرہ شہری کے مطابق ملزمان نے اس سے رقم اور قیمتی سامان بھی چھین لیا۔ شہری نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ واردات میں پولیس اہلکار بھی مبینہ طور پر شریک تھے، جنہوں نے خواتین کے ساتھ مل کر اسے ہنی ٹریپ کے ذریعے نشانہ بنایا۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد متعلقہ حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ پولیس کے مطابق ہنی ٹریپ اور مبینہ اغوا و ڈکیتی کے الزام میں 3 پولیس اہلکاروں، 2 خواتین سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔مقدمے میں نامزد افراد کے کردار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ملزمان نے سرکاری اہلکار بن کر شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

حکام کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس اہلکاروں پر لگائے گئے الزامات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں تاکہ واقعے میں ان کے مبینہ کردار کی حقیقت سامنے آسکے۔علاقہ مکینوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر پولیس اہلکار مبینہ طور پر واردات میں ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جارہی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔