عراق کے شمالی علاقے کردستان کے صوبہ اربیل میں جمعرات کو دو ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن کے نتیجے میں سوران کے علاقے میں ایک زور دار دھماکہ اور بدلیان کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔
یہ واقعہ ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق سوران ضلع میں پیش آیا، جہاں مقامی میڈیا نے بتایا کہ دو ڈرونز نے علاقے کے کچھ مقامات کو نشانہ بنایا، مگر حملے کا اصل ہدف ابھی واضح نہیں ہوسکا ہے۔دھماکے کے بعد بدلیان کے علاقے میں آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے، اور مقامی ذرائع نے صورتحال کی اطلاع دی ہے، مگر آگ سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، اور یہ بھی واضح نہیں کہ حملے میں کسی اہم تنصیب یا فوجی مقام کو نقصان پہنچا یا نہیں۔عراقی حکام نے بھی واقعے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جس کے باعث حملے کے ذمہ داروں اور ڈرونز کے ممکنہ ماخذ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عراق کے کردستان ریجن میں ایران، امریکا اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی کے باعث حساس صورتحال جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی اربیل اور اس کے اطراف میں ڈرون حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔17 اگست کو بھی دو ڈرونز نے کردستان ریجن کے وزیراعظم مسرور بارزانی کے دفتر اور علاقائی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا تھا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور حکام کے مطابق یہ ڈرون ایرانی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔ تازہ حملہ ایک بار پھر شمالی عراق میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھا رہا ہے، اور مزید معلومات کا انتظار ہے کہ ہدف، نقصان اور ذمہ داروں کا پتہ چلے۔