شمالی عراق کے شہر اربیل میں جمعہ کی صبح متعدد ڈرونز کو فضا میں روک کر تباہ کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی اس وقت انجام دی گئی جب ڈرونز کا ملبہ اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک رہائشی کمپلیکس پر جا گرا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔الجزیرہ کے مطابق، عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈرونز کو اربیل کے اوپر فضا میں روک لیا گیا۔ کارروائی کے بعد ان کا ملبہ ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں گرا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ شمالی عراق کے کردستان ریجن کا اہم ہوائی اڈہ ہے۔ واقعہ ایئرپورٹ کے اطراف پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال پر فوری توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ڈرون حملے کا ممکنہ ہدف اربیل ایئرپورٹ کے قریب موجود ایک امریکی فوجی اڈہ تھا۔ تاہم، حملہ کے مقصد اور ڈرونز کی شناخت کے حوالے سے تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا گیا، اور ان کا ملبہ مختلف مقامات پر گرا۔ ملبہ رہائشی کمپلیکس کے قریب گرا، لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے، جس کے سبب عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی بھی اہم معاملہ بن چکی ہے۔ماضی میں بھی عراق میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون اور راکٹ حملوں کا سامنا رہا ہے، لیکن حالیہ واقعے کی ذمہ داری کسی فریق نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کی ہے۔ اربیل اور اس کے اطراف میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث یہ علاقہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اہم سکیورٹی نقطہ سمجھا جاتا ہے، اور اس واقعے کے بعد علاقہ میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔