بھارت کا دوبارہ رابطہ، پاکستان کو سیلاب کے خدشے سے آگاہ کیا گیا

بھارت کا دوبارہ رابطہ، پاکستان کو سیلاب کے خدشے سے آگاہ کیا گیا

ویب ڈیسک: بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو ممکنہ سیلاب سے متعلق پیشگی اطلاع دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارتی حکام کی جانب سے ہریکے، فیروزپور، مادھوپور اور اکھنور کے مقامات پر الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔محکمہ آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج اور راوی میں ہائی فلڈ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے این ڈی ایم اے سمیت تمام اداروں کو انتباہی مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آج شام شاہدرہ سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے جبکہ دریائے راوی میں کوٹ نیناں کے مقام پر 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک اور جسڑ پر 2 لاکھ 29 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔سیلاب کے خطرے کے پیش نظر متاثرہ اضلاع اور دریائے راوی کے کنارے بسنے والے شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔دوسری جانب بھارت سے آنے والے سیلابی ریلوں نے پہلے ہی کئی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 96 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، جس کے باعث کئی دیہات ڈوب گئے اور لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

بھارت نے راوی پر تھین ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے، جس سے شاہدرہ، جسڑ اور ہیڈ بلوکی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ لاحق ہے۔ کرتارپور کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گردوارے میں بھی داخل ہو گیا ہے۔دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی جبکہ پی ڈی ایم اے کے مطابق بہاؤ 9 لاکھ 22 ہزار کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔سیلابی ریلوں نے ظفروال اور نارووال میں پل توڑ دیے، کئی رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔حکومتِ پنجاب نے ہنگامی اجلاس بلا کر متاثرہ اضلاع کے لیے فوری فنڈز جاری کرنے، پاک فوج کو طلب کرنے اور شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔