دہشت گردی کے خدشے پر امریکا نے برطانوی اڈے سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے

دہشت گردی کے خدشے پر امریکا نے برطانوی اڈے سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے

ویب ڈیسک: امریکا نے برطانیہ کے رائل ایئر فورس فیئر فورڈ بیس سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کردیے ہیں، جہاں ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکی بی-52 اور بی-1 بمبار طیارے تعینات تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت فیئر فورڈ ایئربیس پر مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے معاملے کی تحقیقات کے دوران سامنے آئی ہے۔پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ فیئر فورڈ سے بمبار طیاروں کو امریکا میں موجود ان کے متعلقہ ہوم بیسز پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ حساس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت پر بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔ایوی ایشن مانیٹرز کے مطابق ایران جنگ کے ابتدائی دنوں سے درجنوں بی-52 اور بی-1 بمبار طیارے آر اے ایف فیئر فورڈ سے آپریٹ کررہے تھے، تاہم اتوار کو متعدد بی-1 بمبار طیاروں کو اڈے سے روانہ ہوتے دیکھا گیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے آئندہ اقدامات، جن میں مزید حملے بھی شامل ہیں، پر غور کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے اور اب فیصلہ ہوگا کہ معاملہ آسان طریقے سے حل ہوتا ہے یا مشکل طریقے سے۔دوسری جانب برطانوی حکام نے گزشتہ ہفتے وسطی لندن سے دوہری برطانوی و ایرانی شہریت رکھنے والے ایک شخص کو مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔

یہ گرفتاری ستمبر کے آخر میں آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے بعد عمل میں آئی۔ تحقیقات کے دوران مجموعی طور پر 6 افراد کو حراست میں لیا گیا، جنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔برطانوی حکام نے واقعے کے ممکنہ تعلق کو ایران سے جوڑا ہے، تاہم ایران نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔لندن سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی بمبار طیاروں کے لیے اہم اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ادھر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس تھیوڈر روزویلٹ اور یو ایس ایس میلکن آئی لینڈ پر مشتمل ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی خطے کی جانب روانہ ہے۔

ان بحری یونٹس پر مجموعی طور پر 7 ہزار سے زائد ملاح اور 2 ہزار میرینز موجود ہیں، جس کے نتیجے میں اکتوبر کے اختتام تک خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں کی تعداد تین تک پہنچنے کا امکان ہے۔