گلگت بلتستان میں سیلابی ریلے ، سڑکیں بند، 3 سیاح جاں بحق، 15سے زائدلاپتہ،4 زخمی حالت میں ہسپتال منتقل
لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلا ع میں آج آندھی و بارش ، بر ساتی ندی، نالوں میں طغیانی کا خطرہ :محکمہ موسمیات
اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )اسلام آباد سمیت جڑواں شہروں میں وقفے وقفے سے موسلا دھاربارش کا سلسلہ جاری ہے، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہائی الرٹ جاری کردیا گیا، اسلام آباد کے علاقہ سید پور میں 145ملی میٹر بارش ریکارڈ، پانی کا بہائو تیز ہونیسے نالہ بپھر گیا، کنارے پر کھڑی متعدد گاڑیاں بہہ گئیں۔ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ21 سے 25 جولائی تک شدید بارش کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں مقامی و بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میٹروالوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے سید پور میں 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو سب سے زیادہ ہے جبکہ گولڑہ میں 46 ملی میٹر اور پی ایم ڈی کے مرکزی دفتر کے مقام پر 16 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی،تیزبارش کے باعث سید پور کے برساتی نالے میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی جس کی زد میں متعدد گاڑیاں آ گئیں۔ علاوہ ازیں راولپنڈی کے کٹاریاں پل پر پانی کی سطح 10 فٹ تک پہنچ گئی ، جس کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو کٹاریاں، گوالمنڈی اور دیگر نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ادھر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں موسلا دھار بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں میں سیاحوں کی 8 گاڑیاں بہہ گئیں، 3 لاشیں نکال لی گئیں جب کہ 15 سے زائد سیاح لاپتہ ہیں۔4 سیاحوں کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال کیباعث چلاس جلکھڈ روڈ اور شاہراہ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہوگئی جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور سیلاب کے باعث ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے ہیں۔غذر میں آسمانی بجلی گرنے سے 4 مقامات پر لینڈسلائیڈنگ سے متعدد مکانات، سکول، سڑکوں اورکھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔اپرکوہستان کی تحصیل کندیا کے ندی نالوں میں طغیانی سے مکانات واٹرچینلز اور پن چکیوں کو نقصان پہنچا۔ ایک خاتون بھی سیلابی ریلیمیں بہہ گئی۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ 21 سے25 جولائی کے دوران شدید بارش کے باعث چترال ، صوابی ، مری ، ڈیرہ غازی خان، شمال مشرقی پنجاب ،کشمیر اور بلوچستان میں بھی مقامی /بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے ، اسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، اوکاڑہ، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کاخدشہ ہے ،پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج منگل کو صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلا ع میں تیز ہو ائوں/آندھی و گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ دیگر علاقوں میں مطلع جزوی طور پرابر آلود اور مر طوب رہنے کی توقع ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا تا ہم اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان ، سندھ اور کشمیر میں تیزہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہوئی۔ ادھر پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے دریائوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ 23 جولائی تک دریائے جہلم، چناب اور راوی میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب جبکہ آج 22 سے 24 جولائی کے دوران دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہائو میں اضافے کا خدشہ ہے ،مون سون بارشوں کا چوتھے سپیل 25 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔کمشنر لا ہور راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال اور بہاولپور ڈویڑن جبکہ گجرات، منڈی بہائوالدین، سرگودھا، خوشاب، جھنگ،ننکانہ صاحب، فیصل آباد، اوکاڑہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کر دیا گیا۔