وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو عوام کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد سے اس حوالے سے میڈیا میں کئی باتیں زیرِ بحث ہیں۔
انہوں نے لاہور میں ایک بیان میں کہا کہ پی ایس ایل اب عوام کے بغیر اچھا نہیں لگ رہا، کیونکہ اس کی اصل رونق اور جذبات عوام کی موجودگی سے ہی بنتے ہیں۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میدان اور ٹرافی کو شائقین کے ساتھ سجایا جائے تاکہ کھیل کا اصل مزہ دوبارہ لوٹ آئے۔انہوں نے اس حوالے سے اپنے ٹویٹر پیغام میں بھی ’شائقین واپس لاؤ‘ اور ’پی ایس ایل پبلک کے لیے کھولو‘ کے ہیش ٹیگز استعمال کیے، تاکہ عوامی حمایت اور مطالبہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کا اصل حسن اور جذبہ شائقین کے بغیر ادھورا ہے، اور یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو دوبارہ اس کھیل سے جوڑا جائے۔عظمیٰ بخاری کے اس مطالبے پر مختلف حلقوں سے ردعمل آ رہا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے باوجود، حفاظتی تدابیر کے ساتھ شائقین کو اجازت دینا ضروری ہے تاکہ کھیل میں جان اور رنگ واپس آئے۔
دوسری طرف، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صحت کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور جب تک ممکن ہو، محدود تعداد میں ہی شائقین کو آنے کی اجازت دی جائے۔اس مطالبے کے بعد، پی سی بی یا متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی باضابطہ اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے، لیکن وزیر اطلاعات کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی مطالبہ اور کھیل کے شائقین کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے، مستقبل قریب میں اس معاملے پر کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خبر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے ایونٹس اور عوامی شرکت کے حوالے سے حالات بدل رہے ہیں، اور حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کی خواہشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں۔